قائمہ کمیٹی برائے قانون کے منعقدہ اجلاس میں سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل 2023ء پر بحث ہوئی۔
تفصیلات کے مطابق بشیر محمود ورک کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس ہوا جس میں ازخود نوٹس اختیار کرنے سے متعلق سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 زیر غور ہوا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اجلاس کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز ایوان میں پیش کردہ بل میں کچھ ترامیم کی جا رہی ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ ایسا قانون بنائیں جسے بعد میں چیلنج کیا جا سکے، یہ اسٹیک ہولڈرز کا بڑا پرانا مطالبہ تھا جس پر اب قانون سازی کی جا رہی ہے، از خود نوٹس کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق نہ ہونا بنیادی حقوق کے خلاف ہے، مرضی کے وکیل کی خدمات حاصل کرنا بھی ہر ایک کا حق ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ جب سپریم کورٹ کے اندر سے بھی آوازیں آئیں تو قانون سازی کا فیصلہ کیا گیا۔
چیئرمین کمیٹی نے سوال کیا کہ کیا اس بل میں آئین کے منافی کوئی چیز شامل ہے؟
نفیسہ شاہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ تو متفق ہیں لیکن پارلیمنٹ کے باہر سے کچھ آوازیں اٹھ رہی ہیں، قانون سازی کی ٹائمنگ پر اعتراض کیا جا رہا ہے، کچھ لوگ کہ رہے ہیں کہ آرٹیکل 184 تھری میں ترمیم کرنی پڑے گی۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آرٹیکل 184 تھری کا بے دریغ استعمال کیا گیا، افتخار چوہدری نے از خود نوٹس کا بے دریغ استعمال کیا، افتخار چودھری کے بعد تین چیف جسٹسز نے اس اختیار کو استعمال نہیں کیا، ثاقب نثار صاحب نے تو حدیں ہی پار کر لیں، وکلاء برادری کا یہ دیرینہ مطالبہ تھا، اب تو سپریم کورٹ کے ججز نے بھی کہ دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے سوموٹو میں اپیل کا حق نہیں تھا جو بنیادی حقوق اور شریعت کے بھی خلاف تھا، اس بل میں اپیل کا حق دیا گیا ہے، سوموٹو میں وکیل تبدیل کرنے کی اجازت نہیں تھی اب اس بل کے تحت وکیل تبدیل کیا جا سکے گا، اب نئے قانون کے تحت فوری نوعیت کے مقدمات کی جلد سماعت کرنا ہو گی، ان معاملات پر بڑے عرصے سے عوامی سطح پر مطالبات سامنے آرہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ حامد خان نے بھی اس قانون کو وقت کی ضرورت قرار دیا، انہوں نے بھی کہا کہ اس قانون سے عدالت میں استحکام آئے گا، از خود نوٹس کے اختیار کو ون مین شو کی طرح استعمال کیا گیا، ہم نے ہر طرح سے دیکھا ہے اس میں آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں ہے، بدقسمتی سے تین سال سے سپریم کورٹ میں فل کورٹ اجلاس نہیں ہوا، وفاقی حکومت کا فرض ہے کہ قانون سازی کر کے خلا کو پر کرے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آٹھ آٹھ ماہ سے جلد سماعت کی درخواستیں پڑی ہیں کوئی سنتا ہی نہیں، سپریم کورٹ میں تمام کیسز کی سماعت کیلئے بینچ بنانے کا اختیار چیف جسٹس اور دو سینئر ترین ججز کی کمیٹی کو دینے کی تجویز ہے، قانون کی منظوری کے بعد سپریم کورٹ میں زیر سماعت از خود نوٹسز میں اپیل کا حق مل جائے گا۔
قانون منظور ہونے سے تیس روز قبل جن از خود نوٹسز کے فیصلے ہوئے ان میں بھی اپیل کا حق دینے کی ترمیم بل میں شامل کر لی گئی۔
قائمہ کمیٹی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 ترامیم کے ساتھ منظور کر لیا۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 تین ترامیم کے ساتھ منظور کر لیا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر مملکت شہادت اعوان اجلاس میں شریک تھے۔



















