وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے قوم کو بڑی خوشخبری سنادی ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ قوم کی کامیابی ہے، معاہدے سے پاکستان کو 3 ارب ڈالرز ملیں گے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10روز میں ہم نے آئی ایم ایف کو قائل کیا، ہم چاہتے تھے آئی ایم ایف پروگرام 9 ماہ سے زیادہ نہ ہو، پاکستان کا 9واں ریویو 30 ستمبر 2022 والا تھا، پہلے 3 ماہ تاخیر ہوئی وہ وزٹ نہیں کر سکے، 9 فروری کو ٹیکنیکل ریویو مکمل ہو گیا تھا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ بجٹ تقریر میں کافی پریشان تھا کہ مزید 215 بلین کا ٹیکس لگا دوں، پریشان تھا کہ ٹیکس لگادوں اور پروگرام بھی نہیں ہوا تو کیا ہو گا، وزیراعظم نے کہا پروگرام نہ ہوا تو ہم واپس لے لیں گے، ہمارا یہ پروگرام 9 ماہ کیلئے ہے جس میں 3 بلین ڈالر ملیں گے، 12جولائی کو بورڈ میٹنگ طے ہوگئی ہے۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف نے کہا 6 بلین ڈالر کا ٹارگٹ پورا کریں، اگر 9واں ریویو ہو جاتا تو 10واں اور 11واں نہیں ہونا تھا، وزیراعظم نے آئی ایم ایف سے 1 یا 2 ماہ بڑھانے کا کہا تومنع کر دیا گیا، ہم چاہتے تھے یہ پروگرام 9 ماہ سے زائد کا نہ ہو، گزشتہ 48 گھنٹے میں یہ پروگرام 9 ماہ کا ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان آئی ایم ایف کے 22 پروگرام مکمل نہیں کر سکا، 2013 سے 16 کا ایک پروگرام تھا جو نوازشریف کی قیادت میں مکمل ہوا، کچھ لوگ مایوسی پھیلا رہے تھے، کہتے تھے پاکستان ڈیفالٹ کرے گا۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ نوازشریف کے وقت اسٹاک مارکیٹ 100 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی، آج اسٹاک مارکیٹ کی ویلیو 22 بلین ڈالر ہے، گزشتہ حکومت میں پاکستان کو بےپناہ معاشی نقصان ہوا، ایک تجربے سے پاکستان کو اقتصادی طور پر بہت بڑا نقصان ہوا۔



















