وزیراعظم نے کہا ہے کہ آزادی اظہار رائے اور احتجاج کے نام پر مذاہب، مذہبی شخصیات اور مقدس اشیاء کی توہین کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔
تفصیلات کے مطابق اسلامو فوبیا میں اضافے پر وزیراعظم شہباز شریف نے سیکرٹری جنرل او آئی سی کو فون کیا جس میں وزیراعظم شہباز شریف نے قران پاک کی بے حرمتی کے واقعات کی شدید مذمت کی۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دانستہ طور پر اٹھائے گئے اشتعال انگیز ان اقدامات سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے احساسات مجروح ہوئے، آزادی اظہار رائے اور احتجاج کے نام پر مذاہب، مذہبی شخصیات اور مقدس اشیاء کی توہین کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔
شہباز شریف نے مسلم امہ کے تحفظات اور مطالبات کی ترجمانی پر سیکرٹری جنرل او آئی سی کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی اس حوالے سے مربوط اور جامع حکمت عملی مرتب کرے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ او آئی سی اسلامو فوبیا کے واقعات سے متعلق قانونی اور سیاسی مزاحمت پیدا کرے جبکہ او آئی سی یہ معاملہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ اور دیگر فورمز پر اٹھائے۔ واقعہ پر جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کا اجلاس طلب کرنا خوش آئند ہے۔
ٹیلیفونک ربطے کے دوران سیکرٹری جنرل او آئی سی نے اسلاموفوبیا کے روایتی مسئلے سے نمٹنے کے عزم کا اظہار کیا۔



















