سراج الحق نےکہا ہے کہ آئی ایم ایف کے قرضوں سے کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا۔
تفصیلات کے مطابق جھنگ میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کی اپیل پر آج کا دن دنیا بھر میں سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف منایا گیا، قرآن کی بے حرمتی کے خلاف پورا عالم اسلام یک آواز ہے، عالم اسلام کے حکمران سے مطالبہ کرتا ہوں سویڈن کے سفیروں کو نکال دیں اور اقوام متحدہ سویڈن پر معاشی پابندی لگائے۔
انہوان نے کہا کہ ہم قرآن کے ہر لفظ اور زیر زبر پر مرنے کے لئے تیار ہیں ، سویڈن نے تیسری عظیم جنگ کی بنیاد رکھی ہے، سویڈن نے 58 اسلامی ممالک کو چیلنج کیا ہے۔ چھوٹے سے ملک سویڈن نے یہ حرکت مسلمانوں کی غیرت کو چیلنج کرنے کے لئے کی، اسلامی دنیا کے تعاون کے بغیر یورپ کے کارخانے نہیں چل سکتے
امیر جماعت اسلامی نے یہ بھی کہا کہ سودی نظام کے ہوتے ہوئے ترقی ناممکن ہے، ہماری عدالتوں میں قرآن کے مطابق فیصلے نہیں ہو رہے، قرآن حق اور باطل میں فیصلہ کرنے والا ہے لیکن ہماری عدالتوں میں قرآن کی بجائے کوئی اور قانون رائج ہے۔ ہمارے ملک میں سودی نظام رائج ہے جو قرآن کے منافی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے معاہدے پر حکمران خوشیاں منارہے ہیں، آئی ایم ایف کے قرضوں سے کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا۔75سالوں میں پاکستان میں جرنیلوں،ن لیگ،پیپلز پارٹی،پی ٹی آئی سمیت دیگر جماعتوں نے حکمرانی کی۔ان جماعتوں کے سیاستدانوں کے اثاثوں ،ملوں میں اضافہ ہوا۔
سراج الحق کا یہ بھی کہنا تھا کہ 22 مرتبہ آئی ایم ایف سے قرضے لئے ہر بار وہی سبز باغ دکھائے گئے جو یہ حکومت دکھارہی ہے۔ ہمیں معاشی نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے، آئی ایم ایف کو خیر باد کہہ کر اپنے پاوں پر کھڑے ہونے کی ضرورت ہے، عوام ووٹ کی طاقت سے اپنے مستقبل کے لئے دیانتدار اور اہل قیادت منتخب کریں۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کا مزید کہنا تھا کہ بطور وزیر خزانہ کے پی کے صوبہ کو قرض فری بنایا تھا لیکن آج کے پی کے پر ایک ہزار ارب سے زیادہ کا قرض ہے، پی ڈی ایم کی 13جماعتیں اپنے مفاد کے تحفظ میں سپیشلائزیشن رکھتی ہیں جبکہ تمام جماعتیں کرپشن ،توشہ خانہ کو لوٹنے اور آئی ایم ایف سے قرض لینے پر ایک پیج پر ہیں۔



















