Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

حکومت کیلئے بڑا دھچکا؛ مولانا فضل الرحمان نے اہم اعلان کر دیا

امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اہم اعلان کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سینئر صحافیوں کے ساتھ  گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ سوال پی ڈی ایم میں موجود ہے کہ مسلم لیگ ن نے اب تک اتحاد میں شامل جماعتوں کو دبئی میں ہونے والی میٹنگ کے حوالے سے اعتماد میں کیوں نہیں لیا۔

انہوں نے کہا کہ دبئی مذاکرات اچانک نہیں بلکہ منصوبہ بندی سے ہوئے اس لیے سب کواعتماد میں لیا جانا چاہیے تھا۔ پی پی ہمارے اتحاد کا حصہ نہیں اس لیے دبئی مذاکرات کے بارے میں نہیں پوچھ سکتے۔ پی ڈی ایم ایک تحریک تھی اب اس کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عام انتخابات وقت پر ہوں گے، جلد مرکز، سندھ اوربلوچستان میں نگران حکومتیں قائم آ جائیں گی، ملک میں معیشت بہتر ہونا شروع ہو گئی ہے۔

پی ڈی ایم کے سربراہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چیئر مین امریکا کو گالی بھی دیتا ہے اور اس سے یاری بھی گانٹھی جارہی ہے، عجیب بات ہے کہ وہ عالمی برادری جو قران پاک کی توہین کرتی ہے وہی چیئرمین پی ٹی آئی کی حمایت بھی کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سی پیک اورسرمایہ کاری روکتا ہے اسکے قول وفعل میں تضاد ہے، جب محسوس ہوا کہ دفاعی نظام میں عدم استحکام آرہا ہے تو چیئرمین پی ٹی آئی سے ہاتھ اٹھا لیا گیا، چیئرمین پی ٹی آئی کو را اور موساد کی سپورٹ حاصل تھی اور آج بھی حاصل ہے۔ امید ہے کہ قوم عام انتخابات میں اس فتنے سے ملک کومحفوظ رکھے گی۔

امیر جے یو آئی ف نے کہا کہ ہم 2018 اتخابات کے بعد اسمبلیوں کی رکنیت کا حلف نہیں اٹھانا چاہتے تھے تاہم اپوزیشن جماعتوں کی وجہ سے ایساکرنا پڑا۔ ہمارے لیے بے شمارمشکلات پیداکی گئیں مگر ہم نے تحمل سے کام لیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم چیئرمین پی ٹی آئی کی حکومت کو نہیں ہٹانا چاہتے تھے تاہم اپوزیشن کا ساتھ دینے کے لیے ان کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ فوج ایک ادارہ ہے جس سے اختلاف ممکن نہیں البتہ شخصیات سے اختلاف ہوسکتا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جنرل فیض حمید نے مجھے ملاقات کے لیے بلایا لیکن میں نہیں گیا، جب میں نہیں گیا تو وہ خود ملاقات کے لیے آگئے، فیض حمید نے ملاقات میں تین باتیں کیں کہ میں اپ کو سینٹ کا رکن اور پھر چیئرمین دیکھنا چاہتا ہوں آپ نے سسٹم کے اندر تبدیلی لانی ہے، میں نے انکار کر دیا اور اس کے بعد اپوزیشن کو تقسیم در تقسیم کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ برطانوی سفیر نے کہا گرفتاریوں پر تشویش ہے، میرا جواب تھا اگر آپ کی پارلیمنٹ پرحملہ ہوتا تو کیا کرتے، گرفتاریوں پر آپ کو تشویش اس وقت ہوتی جب ایک بیٹی کو باپ سے نہیں ملنے دیا جا رہا تھا۔

امیر جے یو آئی ف نے کہا کہ بغاوت کے زمرے میں جو بات آتی ہے تو اس پر ریاست ایکشن لے گی، ملک کو تباہی سے ہمکنار کرنے والوں سے نجات کے لیے سخت فیصلے کرنے ہونگے۔

متعلقہ خبریں