Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

وفاقی ترقیاتی منصوبوں میں سندھ ایک دفعہ پھر نظر انداز

پیپلز پارٹی وفاقی حکومت میں شریک لیکن سندھ کو 84 میں سے صرف 9 منصوبوں کی ہی منظوری دلوا سکی۔

تفصیلات کے مطابق سی ڈی ڈبلیو پی کے چار اجلاسوں میں 84 منصوبوں میں سے سندھ کے 24 میں سے 9 منصوبوں کی منظوری جبکہ سندھ کے 15 منصوبے التوا میں ڈالنے کا انکشاف ہوا۔

سی ڈی ڈبلیو پی کے ایجنڈا کے مطابق یکم جون کو سی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس میں 12 منصوبے پیش کئے گئے جس میں سے سندھ کا صرف ایک منصوبہ سندھ سولر انرجی پروجیکٹ منظور کیا گیا۔

سی ڈی ڈبلیو پی کا دوسرا اجلاس 23 جون کو منعقد ہوا جس میں 23 منصوبے پیش کئے گئے جس میں سے سندھ کا ایک منصوبہ لاڑکانہ سے لکھی تک ڈبل روڈ کی تعمیر کا تھا۔

سی ڈی ڈبلیو پی کا تیسرا اجلاس 26 جون کو منعقد ہوا جس میں 25 منصوبے پیش کئے گئے جس میں سے سندھ کے 4 منصوبے منظور کئے گئے جن میں 2022ء کے سیلاب میں تباہ ہونے والے اسکولوں کی تعمیر، کراچی ڈیولپمنٹ پیکج، حیدرآباد اربن انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ پیکج اور کے بی فیڈر کی سیمینٹ کے ذریعہ لائیننگ کرنا شامل ہے۔

سی ڈی ڈبلیو پی کے 6 جولائی کو چوتھے اجلاس میں 20 منصوبے پیش کئے گئے جس میں سے سندھ کے دو منصوبوں کی منظوری دی گئی جن میں لاہور ساہیوال بہاولنگر موٹروے کو ملتان سکھر موٹروے سے ملانے اور این 5 اور این 6 پر چار لین کی فلائی اوور تعمیر کرنا شامل ہیں۔

ان چاروں اجلاسوں میں سندھ کے 15 منصوبوں کی منظوری نہیں دی گئی، وہ منصوبے التوا میں ڈالے گئے ہیں۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں