Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ہمیں وقت دیا گیا تو ملک کو مزید ترقی یافتہ بنائیں گے، رانا ثنا اللہ

وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ ہمیں وقت دیا گیا تو ملک کو مزید ترقی یافتہ بنائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ آج ایک جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ اپنے انجام کو پہنچا، میں جھوٹے مقدمے سے باعزت بری ہوا ہوں، ہم سب نے اپنی بے گناہی عدالتوں میں پیش ہو کر ثابت کی، ہمارے قائدین سب عدالتوں میں پیش ہوئے، نہ ہم نے عدالتوں کا گھیراؤ کیا اور نہ ہی کارکن اکٹھے کر کے عدالتوں پر چڑھائی کی، ہمارے تمام قائدین عدالتوں میں عام آدمی کی طرح پیش ہونے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہمارے قائدین نے سروں پر بالٹیاں نہیں رکھی اور نہ ہی عدالتوں کے دروازے توڑے، نو مئی کو اس ملک کے دفاعی ادارے پر حملہ کیا گیا، جنھوں نے ہمارے شہدا کی بے حرمتی کی ان کو معاف نہیں کیا جا سکتا، الیکشن میں پاکستان عوام کو موقع ملے گا کہ وہ اپنے نمائندے کو منتخب کرے، ہم نے ہمیشہ اپنے ذات کی نفی کر کے ملک کی ترقی کے لیے کام کیا، ہمارا کرادر بھی سب کے سامنے ہیں اور ان کا بھی جنھوں نے معاشرے کو تقسیم کرنے کی سیاست کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا یہ دعوہ ہے پاکستان جب بھی بحران کا شکار ہوا ہے ہم نے ملک کو بحران سے نکالا ہے، ایک شخص جو ملکی سیاست کا فتنہ ہے اس کے برسر اقتدار میں آنے پر ملک بحرانوں کا شکار ہوا، وزیراعظم نے دن رات کوشیشیں کر کے ملک کو بحرانوں سے نکالا، سائفر اس وقت کے سیکرٹری ٹو وزیراعظم کی ذمہ داری تھی، اعظم خان نے کہا ہے کہ سائبر اس سے اگلے دن وزیراعظم نے لیا جو بعد میں نہیں ملا۔

انہوں نے کہا کہ سائفر عمران خان کے پاس ہے اور اسکا وہ زمہ دار ہے، یہ بات کی جا رہی ہے کہ اس مرتبہ نگران وزیراعظم کوئی سیاست دان ہونا چاہیے، اگر یہ بات سرے چڑھتی ہے تو وہ نام سیاستدانوں میں سے ہی ہو گا، اسحاق ڈار بہت اچھے سیاست دان اور باوقار آدمی ہیں، اس بارے میں کسی جماعت نے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا، پاکستان مسلم لیگ ن عوام کے ردعمل کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی، عدالت نے شارٹ آرڈر پر مجھے بری کیا ہے، جو بجلی مہنگی ہوئی ہے وہ اسحاق ڈار کا تحفہ نہیں آئی ایم ایف کا تحفہ ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر آئی ایم ایف سے معاہدہ اسحاق ڈار نے کیا ہے یا جس نے پہلے کیا تھا اس کے گریبان کو پکڑنا چاہیے، ہم 2018 میں ملک کو آگے لیکر جا رہے تھے، اگر ہمیں ٹائم دیا تو یہ ملک ترقی یافتہ ہو سکتا تھا، ہم دو سو یونٹ تک بجلی کو فری کرنا چاہتے تھے، لوگ میاں نواز شریف پر اعتماد کریں ہم ایک سال میں وہی قیمتیں واپس لائیں گے جو 2018 میں تھیں، عمران خان امریکہ میں کہتے تھے میں جا کے پتہ کروں گا کہ نواز شریف کے سیل میں کوئی اے سی تو نہیں لگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے عدالتوں کا احترام کیا ہے عدالتوں پر چڑھائی نہیں کی، جن کو جھوٹے مقدمات کے تحفظات ہیں وہ بھی عدالتوں میں اپنی بے گناہی ثابت کریں۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں