وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ آئی ایم ایف کی شرط تھی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ترقیاتی منصوبوں کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کا 16 ماہ میں چوتھا دورہ ہے، 16ماہ کی قلیل مدت میں مشکل ترین چیلنجز ورثے میں ملے۔
انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے نوجوانوں کو بااختیار بنانا تھا تو بتائیں کتنے وظائف دیے، آٹا ایک لاکھ روپے کلو بھی ہو جائے تو اشرافیہ خرید سکتے ہیں، بجلی کی قیمتوں میں اضافہ آئی ایم ایف کی شرط تھی، بجلی کی ترسیل میں لائن لاسز ہوتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کر کے اسے توڑا، آئی ایم ایف سے معاہدہ کرنے کیلئے پاپڑ بیلنے پڑے۔
انکا کہنا تھا کہ اس سے بڑا کیا کرم ہوسکتا ہے ملک ڈیفالٹ سے بچ گیا، ڈیفالٹ قیامت تک ایک کالا دھبہ ہوتا، قیامت تک ماتھے پر دھبہ لگتا کہ میرے دور میں ملک ڈیفالٹ ہوا، ملک ڈیفالٹ ہوجاتا صنعت بند ہوجاتی، ہمیں دوائی اور روٹی کے لالے پڑجاتے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے دورمیں 10سال میں ملک میں گندم کی ریکارڈ پیداوار تھی، گزشتہ حکومت کی بدنیتی کی وجہ سے گندم میں کمی ہوئی، میں اربوں کی گندم باہر سے منگوانا پڑی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے کہا ریاست کو بچانا ہے، ریاست کو بچانے کیلئے ہم نے بڑی قیمت ادا کی، گزشتہ حکومت نے سیاست چمکانے کیلئے ریاست قربان کرنے میں کسر نہیں چھوڑی۔
شہباز شریف نے کہا کہ حلف اٹھایا تو احساس تھا کہ حالات مشکل ہیں لیکن اس بات کا اندازہ نہیں تھا حالات حد درجہ تباہ کن ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اقتدار سنبھالا تو تاریخ کا سب سے بڑا تباہ کن سیلاب آیا، جس سے3 کروڑ30 لاکھ افراد متاثر ہوئے، سیلاب متاثرین کیلئے100 ارب سے زائد کا فنڈ مختص کیا، مخلوط حکومت سے مل کر متاثرہ خاندانوں کی مدد کی۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ ملک کے خلاف سازش کی گئی، 9مئی کا سانحہ ہوا، ملک دشمنی نے کاروبار اور معاشی سرگرمیوں کو جام کردیا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















