Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

حکومت کیلئے بڑا دھچکا؛ سینیٹ سے اہم خبر آگئی

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے تدارک پرتشدد انتہا پسندی بل اراکین کی شدید مخالفت کے بعد ڈراپ کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے بل کو قائمہ کمیٹی میں بھیجنے کا مطالبہ کیا جبکہ حکومتی اتحادی جماعت جمعیت علماء اسلام نے بل کی مخالفت کردی۔

اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے جے یو آئی رہنما سینیٹر عبدالغفور حیدری نے کہا کہ ہمیں پتہ نہیں کل ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟ آج سینیٹ کا اجلاس بلانے کی کیا ضرورت تھی۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ یہ بل ہمارے لیے طعنہ بنے گا، اس بل میں بنیادی حقوق متاثر ہوں گے، پارٹی کا پتہ نہیں، میں اس بل کی حمایت نہیں کر سکتا۔

جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ یہ بل تمام سیاسی جماعتوں کے خلاف ہے، اس بل کی بھرپور مخالفت کرتا ہوں۔ اس بل پر حکومت نے اپنے اتحادیوں کو بھی اعتماد میں نہیں لیا۔

تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ یہ بل تحریک انصاف کو الیکشن سے روکنے کی سازش ہے، اس بل کو کمیٹی میں بھیجا جائے۔

 مسلم لیگ کے رہنما عرفان صدیقی نے بھی کہا کہ یہ بل ابھی تو قومی اسمبلی میں پیش ہی نہیں ہوا، قانون جوں کا توں منظور ہوگیا تو یہ بڑا شکنجہ ثابت ہوگا۔ یہ سیاست دانوں سمیت سب پر قدغن لگاتا ہے۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اس حوالے سے کہا کہ آج اجلاس بل کے لیے نہیں بلکہ ایوان کے دن پورے کرنے کے لیے بلایا تھا، حکومت اس بل کو ڈراپ کرے نہ کرے، میں ڈراپ کرتا ہوں۔

دوسری جانب رہنما پیپلزپارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پارلیمانی رہنماؤں کی موجودگی میں اجلاس بلانے پر اتفاق ہوا تھا، اگر بل قائمہ کمیٹیوں میں گئے تو پھر لیپس ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کی مدت کم رہ گئی جو بل وہاں پاس ہوئے انہیں منظور کرنا ہے۔ سنیٹ کے پاس آپشن ہے، قانون میں بعد میں ترامیم لاسکتے ہیں۔

 بل کا متن

بل کے متن کے مطابق پرتشدد انتہا پسندی سے مراد نظریاتی عقائد، مذہبی و سیاسی معاملات میں طاقت کا استعمال اور تشدد ہے، اس کے علاوہ اس میں فرقہ واریت کی خاطر دھمکانا یا اکسانا بھی شامل ہیں۔

فرقہ واریت کی ایسی حمایت کرنا جس کی قانون میں ممانعت ہو، پرتشدد انتہا پسندی میں شامل کسی فرد یا تنظیم کی مالی معاونت کرنا یا تشدد اور دشمنی کے لیے اکسانا بھی شامل ہے۔

شیڈول میں شامل شخص کو تحفظ اور پناہ دینا پرتشدد انتہاپسندی ہے، پرتشد انتہاپسندی کی تعریف کرنا اور اس کے لیے معلومات پھیلانا بھی پرتشدد انتہاپسندی میں شامل ہے۔

کوئی سرکاری ملازم نہ خود نہ اہل خانہ کو پرتشدد انتہا پسندی میں ملوث ہونے دے گا، پرتشدد انتہا پسندی کے مواد کو سوشل میڈیا سے فوری اتار دیا جائے گا یا بلاک کر دیا جائے گا۔

معاملہ کی پولیس یا کوئی اور ادارہ تحقیقات اور انکوائری کرے گا، قابل سزا جرم سیشن کورٹ کے ذریعے قابل سماعت ہوگا، پرتشدد انتہا پسندی کے مرتکب شخص کو تین سے 10 سال تک سزا اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔ متاثرہ شخص کو ہائی کورٹ میں اپیل کا حق ہوگا۔

پرتشدد انتہا پسندی میں ملوث تنظیم کو 50 لاکھ روپے جرمانہ ہو گا، تنظیم تحلیل کر دی جائے۔ جرم ثابت ہونے پر فرد یا تنظیم کی پراپرٹی اور اثاثے ضبط کر لئے جائیں گے، حکومت کو معلومات یا معاونت دینے والے شخص کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

 

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں