انتخابات سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کیلئے بڑی خوشخبری آگئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میںجوڈیشل کمپلیکس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم کے معاون خصوصی عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف پر پابندی لگانے کا ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں ملزم تین بار عدالت پیش ہوا لیکن جواب دینے سے قاصر رہا، 11ماہ سے کلیم اللہ ،سلیم اللہ کھیلا جا رہا ہے۔
عطاء تارڑ نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا واحد کیس ہے جو 11 ماہ سے زیر سماعت ہے اور ملزم تین بار عدالت پیش ہوئے اور جواب دینے سے قاصر رہے، ملزم راہ فرار اختیار کر رہا ہے کہ یہ نہ بتانا پڑے کہ تحفہ بیچ کر حاصل کرنے والی رقوم جمع کرائی گئی رقوم سے مطابقت کیوں نہیں رکھتیں۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ 11 ماہ سے کلیم اللہ سلیم اللہ کھیلا جا رہا ہے اس مقدمہ میں انہونے واقعات ہورہے ہیں، ملزم کے وکیل عدالت میں دھاوا بولتے ہیں اور فخر محسوس کرتے ہیں ۔
انہوں نے سوال کیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نعیم پنجوتہ صاحب ہیں کون ؟ آج تک وکلاء میں ان کا نام نہیں سنا۔
عطاء تارڑ نے کہا کہ ان لوگوں کی امید کا عالم تو دیکھیں آپ دوسری دفعہ سپریم کورٹ کیسے جا سکتے ہیں؟ گزشتہ سپریم کورٹ بنچ نے معاملہ واپس ہائی کورٹ بھیجا تھا، چیئرمین تحریک انصاف نے آج عجیب بہانے بنائے ہیں کہتے ہیں سوالنامہ عاشورہ میں ملا، پھر کہتے ہیں کہ اکاؤنٹنٹ سے بات کرنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقدمہ جب منطقی مراحل میں ہے تو بہانے بن رہے ہیں۔ یہ واحد کیس ہے جس میں سپریم کورٹ، ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ نے کیس روکنے کی درخواستوں کو خارج کیا۔
عطاء تارڑ نے کہا کہ ہر کسی کی درخواست کو نمبر نہیں لگتا ان کی درخواست پر آج ہی نمبر لگ گیا ہے، چیئرمین تحریک انصاف کو جسمانی ریمانڈ کے دوران سپریم کورٹ سے ریلیف ملا ، عام شہری جو لاڈلا نہیں اس کو اپیل کا ایک حق ہوتا ہے، ایک ملزم اپنا بیان نہیں ریکارڈ کرانا چاہ رہا ،اعلیٰ عدلیہ کی مداخلت بار بار کیوں کرائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو معلوم ہے کہ وہ چور ہے اس کے وکیل علی ظفر کے اعترافی بیان موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملزم توشہ خانہ کا ٹرائل تکنیکی بنیادوں پر تاخیر کا شکار کرنا چاہتے ہیں، ملزم سپریم کورٹ میں کہتے ہیں جج پر اعتبار نہیں ، اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ جج کے بارے ہم فیصلہ دیں گے۔ سپریم کورٹ کو کہا جاتا ہے کہ سٹے دے دیں ،کیا یہ سہولت کسی بھی سائل کو حاصل ہے؟
وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ ان کے وکلاء چیف جسٹس سے کیوں ملے، چیف جسٹس کو انہیں سماعت کا موقع نہیں دینا چاہیے تھا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















