Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پختونخوا کی صنعتوں کو 100 ملین مکعب فیٹ گیس روزانہ کی بنیاد پر مہیا کی جائے، حمایت اللہ خان

نگران وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مُشیر برائے محکمہ خزانہ، توانائی و برقیات حمایت اللہ خان نے کہا ہے کہ پختونخوا کی صنعتوں کو 100 ملین مکعب فیٹ گیس روزانہ کی بنیاد پر مہیا کی جائے۔

تفصیلات کے مطابق مشیر خزانہ حمایت اللہ خان نے وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم مصدق ملک کو خط بھیجا جس میں انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے پاور سیکٹر سے 100 ملین مکعب فیٹ گیس کی فراہمی صوبے کے صنعتی زونز کو منتقل کی جائے، وفاقی کابینہ کی اکنامک کوارڈی نیشن کمیٹی نے 2014 میں فیصلہ کیا تھا، فیصلے کے تحت خیبرپختونخوا کے تھرمل پاور پروجیکٹس کیلئے 100 ملین مکعب فیٹ گیس روزانہ کے حساب سے منظوری دی گئی تھی۔

خط کا متن ہے کہ اسی تناظر میں 2016 میں پختونخوا اور وفاقی حکومت کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا، اب چونکہ پاکستان اور خیبرپختونخوا اپنی استعمال سے زیادہ بجلی پیدا کر رہا ہے جبکہ خیبرپختونخوا کے پن بجلی گھر مستقبل میں مزید بجلی کی کھپت کیلئے پیداواری صلاحیت رکھتے ہیں، دوسری جانب صنعت کار خیبرپختونخوا میں بڑی صنعتیں لگانے کے خواہاں ہیں، جس سے صوبے میں معاشی خوشحالی اور روزگار کے لاتعداد مواقع مہیا ہونگے۔

حمایت اللہ خان نے کہا کہ وفاق کی جانب سے گیس کی عدم فراہمی سے متعلق صنعت کاروں کے تحفظات ہیں، موجودہ حالات میں خیبرپختونخوا کی صنعتوں کو 40 ملین مکعب فیٹ گیس روزانہ کے حساب سے دی جا رہی ہے جبکہ مزید 18 ملین مکعب فیٹ گیس روزانہ کے حساب سے بننے والے صنعتی زونز کیلئے درکار ہیں، اسی طرح رشکئ اور حطار صنعتی زونز کیلئے علیحدہ سے آئندہ تین سال میں 54 ملین مکعب فیٹ گیس روزانہ کی کھپت کیلئے درکار ہو گی جس سے ان صنعتی زونز کیلئے گیس کی کُل کھپیت 126 ملین مکعب فیٹ فی دن کے حساب سے درکار ہو گی۔

خط میں انہوں نے لکھا کہ اسی تناظر میں پختونخوا حکومت نے پہلے ہی وزیراعظم کو درخواست کی ہے کہ وہ وزارت توانائی کو ہدایات جاری کریں، وزارت توانائی وفاقی کابینہ کی اکنامک کوارڈی نیشن کمیٹی کیلئے سمری ارسال کرے، سمری میں درخواست کیے جائے کہ خیبرپختونخوا کے پاور سیکٹر سے 100 ملین مکعب فیٹ گیس کی فراہمی صوبے کے صنعتی زونز کو فراہم کی جائے، گیس کی یہ فراہمی سوئی ناردرن گیس پائپ لائن کے توسط سے ہو گی۔

 

 

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں