پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ کے الیکٹرک کی اجارہ داری فوری طور پر ختم ہونی چاہیے۔
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے ڈپٹی کنوینئر مصطفیٰ کمال نے کراچی میں پیریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بجلی مہنگی ہونے سے کراچی کے عوام پریشان ہیں، کراچی والوں کی جیبوں سے ساڑھے تین ارب روپے ہر ماہ جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کو 70 فیصد ریونیو دیتا ہے، ایم کیو ایم ہمیشہ سے اسٹیک ہولڈر رہی ہے، خرم دستگیر اس معاملے پر وزیر اعظم سے بات کرینگے، ہمیں امید ہے وزیر اعظم صاحب سے ہمیں ریلیف دینگے۔
انکا کہنا ہے کہ بجلی اور توانائی کے حوالے سے دنیا بھر میں آپشن موجود ہے کہ ایک کی بجلی سمجھ نہیں آ رہی تو دوسری کمپنی کی بجلی استعمال کریں، کے الیکٹرک وہ واحد ڈسکو ہے جن کا اجارہ داری والی لائسنس ختم ہو گیا ہے، ایکسکلوزیو لائسنس ان کا ختم ہو گیا اب انکے پاس نان ایکسکلوزیو لائسنس ہے، اب دوسری کمپنیاں بھی ان کے ساتھ مل کر کام کر سکتی ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ صارفین کے پاس پریپیڈ میٹرز ہونے چاہیے، اس نظام کو لانے کے لیے ہم نے کے الیکٹرک سے بات کی ہے، نیپرا اور وفاقی حکومت کو جو ہم نے تجویز دی تھی انہوں نے اس پر اتفاق کر لیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام کراچی والوں کو کہنا چاہتا ہوں ہم لاوارث نہیں ہیں، ہم نہ وزیراعظم سے کچھ مانگ رہے ہیں نہ وزیر سے، ہم اپنے کراچی والوں کی بات کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے کہا کہ کراچی والوں سے گردشی قرضوں کی مد میں ماہانہ بل میں رقم وصول کی جا رہی ہے، ساڑھے تین ارب کو بھتہ فی الفور ختم ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو بل دے رہے ہیں ان کی بجلی بھی بند جو نہیں دے رہے انکی بھی بند اس پر بھی سیر حاصل گفتگو ہوئی، ہم نے سندھ کے مظلوم عوام کا مقدمہ لڑا ہے، بینرز لگانے اور احتجاج کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















