Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پاکستان عمان کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، ایئر چیف مارشل

ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے کہا ہے کہ پاکستان عمان کے ساتھ اپنے مضبوط سفارتی، اقتصادی اور دفاعی تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

پاک فضائیہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق عمان کی سلطان آرمڈ فورسز کے چیف آف اسٹاف وائس ایڈمرل عبداللہ بن خامس الرئیسی نے سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ائیر ہیڈکوارٹرز میں ملاقات کی۔

ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، بین الاقوامی سیاسی صورتحال اور علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سربراہ پاک فضائیہ نے عمانی چیف آف اسٹاف کو عصرحاضر کے رجحانات سے متابقت رکھتے ہوئے پاک فضائیہ میں جدید پرکیورمینٹس، نیش ٹیکنالوجیز کے حصول اور تربیتی شعبے کی اصلاح کے ذریعے پاک فضائیہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے مجموعی لائحہ عمل سے متعلق آگاہی فراہم کی۔

ائیر چیف نے عسکری تعاون اور تربیتی شعبوں بالخصوص سائبر، الیکٹرانک وارفیئر، سپیس اور کمپیوٹنگ کے شعبہ جات میں پہلے سے موجود تعلقات کو مزید فروغ دینے کے  پختہ عزم کا اعادہ کیا۔

ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ دونوں ممالک نےآزمائش کی ہر گھڑی میں ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔

انہوں نے پاک فضائیہ کی جانب سے عمان کی رائل ایئر فورس کو تقویت دینے اور تربیتی شعبے میں تعاون کی فراہمی جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے مستقبل کے عسکری چیلنجوں سے نمٹنے اور دونوں فضائی افواج کے مابین تربیتی شعبے کی تعمیر نو کے لیے مشترکہ تربیتی اہداف پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر خصوصی زور دیا۔

سربراہ پاک فضائیہ نے کہا کہ پاکستان برادر ملک عمان کے ساتھ اپنے مضبوط سفارتی، اقتصادی اور دفاعی تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو کہ علاقائی امن، سلامتی اور استحکام سے متعلق تمام اہم امور میں ہم اہنگی کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔

ملاقات میں وائس ایڈمرل عبداللہ بن خامس الرئیسی نے پاک فضائیہ کے اہلکاروں کی غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا اور ہوا بازی کی صنعت میں مقامی صلاحیتوں کے فروغ کے ذریعے پاک فضائیہ کی جانب سے کی گئی شاندار پیش رفت کی تعریف کی۔

عمانی چیف آف اسٹاف نے متعدد شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا جس سے دونوں ممالک مستفید ہوں گے۔

 دونوں سربراہان نے ایسی فضائی مشقوں کے انعقاد پر بھی اتفاق کیا جن میں دونوں ممالک کی فضائی افواج اپنی اپنی سرزمین پر رہ کر بھی حصہ لے سکیں گی۔

متعلقہ خبریں