وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے شعبہ جاتی نمو کے سینٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 20ویں صدی میں آنے والے صنعتی انقلاب کے ذریعے تبدیلی لائی گئی، اس کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ارتقائی منازل طے کیں، انفارمیشن ٹیکنالوجی سے دوری کئی ممالک کی ترقی میں رکاوٹ بن گئی، دیرپا ترقی کیلئے تمام علاقوں کو شراکت دار بنانا ہو گا، دنیا میں ترقی کیلئے نمو سینٹر بنائے گئے جس کی وجہ سے ترقی ہوئی۔
احسن اقبال نے کہا کہ شرح نمو کو 6 سے 8 فیصد تک لیکر جانا اور برقرار رکھنا ضروری ہے، ہماری معیشت کا اسٹرکچر معاشی شرح نمو کو پائیدار ہونے نہیں دیتا، ہماری آبادی میں اضافہ ہوا ہے 2017 اور 2023 میں آبادی کی شرح میں بڑا اضافہ ہوا، ہماری آبادی بڑھنے کا تناسب 2.55 فیصد تک پہنچ گیا ہے، آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ معاشرے میں عدم مساوات اور عدم مسابقت کو ختم کرنا ہے، پاکستان میں 20 پسماندہ ترین اضلاع میں 11 بلوچستان میں ہیں، بلوچستان کا امیر ضلع پنجاب کے غریب ضلع کے برابر ہے، ہر صوبے میں ایک گروتھ سینٹر قائم کیا جائے گا، ہر صوبے کی یونیورسٹی کو اس حوالے سے تحقیقاتی شراکت دار بنایا جائے گا، پائیدار شرح نمو کیلئے وسائل کا بھرپور استعمال کر کے ترقی ممکن ہے، نجی شعبے کو انجن آف گروتھ بنانا ہو گا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















