امیر جماعت اسلامی سراج الحق نےکہا ہے کہ امن معیشت و قانون کی بالادستی سے ہی ملک ترقی کرسکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی و وفاقی حکومت ختم ہوگئی پانچ سالوں میں دو حکومتیں رہیں پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم کی، دونوں حکومتوں کے خاتمے کے بعد منفی اثرات عوام پر پڑے جو کئی عشروں تک ختم نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پانچ سالہ کارکردگی پر مہنگائی، سیاسی افراتفری، سہانے خواب ہی دکھائے گئے لیکن عمل کا خانہ خالی ہے، پانچ سالہ حکومتی گارکردگی مایوس کن تھی، گزشتہ پانچ سالوں میں جن لوگون نے حکومت کی کیا ان لوگون نے اپنے وعدوں کے مطابق مہنگائی کم کی؟۔
سراج الحق کا کہنا تھا کہ کیا عام آدمی کی زندگی میں آسانی ہوئی بجلی کے بلوں ، قرضوں کا بوجھ کم ہوا ہے؟کیا قرضوں کو بوجھ کمی ہوئی کیا اشرافیہ کی اخراجات کم ہوئے؟کیا تعلیمی اداروں سے باہر تین کروڑ بچوں کو اسکول میں لاتے؟۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کیا اشرافیہ مراعات میں کمی آئی لینڈ مافیا آٹا پیٹرول مافیا کو کنٹرول کیا کیا غریب کو علاج کی سہولت دی؟ کیا ان کے دور مین سیلاب زدگان کی بحالی ہوئی ہے؟ کیا کشمیر کی آزادی کے لئے کچھ کیا جواب نفی میں ہے؟۔
سراج الحق نے کہا کہ کیا حکومت تین کروڑ بچوں کو سکولوں میں لانے میں کامیاب ہوئی پاکستانی روپیہ اور پاسپورٹ عورت کو عزت ملی؟ کیا سود کے خاتمے کے لئے ایک قدم بھی اٹھایا ہے؟۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ عوامی مشکلات میں اضافہ ہوا، شاہد خاکان عباسی نے کہا اس اسمبلی کے خاتمہ سے چوبیس کروڑ عوام کو نجات ملی ہے، شاہد خاقان عباسی نے خود کہا عوامی مفاد میں ایک قانون بھی نہیں بنایا اپنےمفاد کےلیے قانون سازی ہوئی اس لئے عوام کے سامنے شرمندہ ہوں۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ سب وہی لوگ ہیں جنہوں نے دھرنے دئیے، پی ٹی آئی کی طرح قوم سے وعدہ کیا کہ مہنگائی کو کم بدامنی و بے روزگاری کو ختم کریں گے، آج حکومت کے خاتمے پر اتنا کہہ سکتے کہ ریورس گئیر پی ڈی ایم حکومت نے لگایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امن معیشت و قانون کی بالادستی سے ہی ملک ترقی کرسکتا ہے لیکن سات ماہ میں اٹھارہ خود کش دھماکے ہوئے پچھلے سال پندرہ خود کش دھماکے ہوئےجس میں سینکڑوں شہید اور ہزاروں زخمی ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے آخری سیشن میں شرمندگی سے ممبران قومی اسمبلی باجوڑ ، باڑہ تاثیر اور حلیم مسجد یا مسلم باغ کا تذکرہ کریں گے لیکن افسوس ایک دوسرے کو مبارکباد ہی دی، حکومت کے پانچ سالہ دور میں معیشت کی تباہی و بربادی کی داستان ہے وہ ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال دیتے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے یہ بھی کہا کہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے مطابق سودی نظام کے خاتمے کےلئے علامتی کام بھی نہیں کیا، سکوت ڈھاکہ کے بعد سانحہ یہ ہے کہ روپیہ افغانستان، بھارت ، سری لنکا سے کمزور ہوگیا ہے۔
سراج الحق کا کہنا تھا کہ زرمبادلہ کی کارکردگی افسوسناک ہے بھارت کا چھ سو اور ہمارا چودہ ارب ڈالر کا زرمبادلہ رہ گیا ہے ہمارا بہتر فیصد ہے بجلی کی قیمت میں اضافہ کیا پیٹرول بم گرائے، قومی اسمبلی کے آخری اجلاس میں بچوں کا ذکر کریں گے جو یونان کے سمندر میں شہید ہوئے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لیبیاء جیل میں لوگ مر رہے ہیں ، بیرونی دنیا کتوں اور بلوں کے بارے میں فکر مند ہوتے ہیں لیکن ادھر انسانوں کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے، اکیس لاکھ مقدمات التواء میں ہیں پچھتہر سال سے انگریز تو چلا گیا لیکن اس کا قانون موجود ہے آج بھی عدالتوں کا یہی نظام ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی عوام کے کندھوں پر بوجھ تھا جس سے انہیں نجات مل گئی ، بلاول بھٹو نے اعلان کیا انہوں نے اور مریم نواز نے تیس سال کےلئے سیاسی میدان میں کھیلنا ہے تو بڑے سہولت کاری کریں تو دونوں خاندان کا خواب تین عشروں تک حکومت کرنے کا پروگرام ہے۔
سراج الحق نے یہ بھی کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ وفاقی حکومت و صوبائی حکومتیں ہی نگران حکومتیں بن جائیں ، نگران حکومت بھی سابقہ حکومتوں کا تسلسل ہے اگر شفاف الیکشن کروانا ہے تو چاروں صوبوں میں غیر جانبدار حکومتوں کا قیام ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم و پیپلزپارٹی ختم ہوگی لیکن سب کے سب اسٹیٹس کو کے سہولت ہیں آئین کے بجائے اپنی پالیسی مضبوط کی، نیب سے اپنے کیسز ختم کئے پھر کہتے کامیاب ہوگئے تو دراصل عوام ناکام ہوگئے صاف پانی و روٹی سے محروم ہوگئے ہیں
امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا مزید کہنا تھا کہ خود کو کلین کرنے کا مقصد عدالت و احتساب کے ادارے سیاستدانوں کو احتساب نہیں کر سکتے لیکن عوام ووٹ کے ذریعے اپنا انتقام لے۔



















