صدر مملکت نے کہا ہے کہ آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے بیماریوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
تفصیلات کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے میڈ ہیلتھ ایکسپو اور سمٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیماریوں سے بروقت بچاؤ کے ذریعے شعبہ صحت پر بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی طبی امداد کی تربیت سمیت جدید ٹولز اور ٹیکنالوجی اپنا کر بیماریوں سے ہونے والی اموات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ڈاکٹر عارف علوی نے اس بات پر زور دیا کہ طبی شعبہ سے وابستہ افراد اخلاقیات اور اِنسانی اقدار کو مدنظر رکھیں، غذائیت کی کمی اور ذہنی و جسمانی کمزوری پر قابو پانے کیلئے بھی اقدامات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)سے میڈیکل سائنس میں بے پناہ تبدیلیاں آ رہی ہیں، جدید ٹولز اور ٹیکنالوجی کو اپنانے کے ساتھ ساتھ رویوں میں تبدیلی کے علاوہ رسیرچ اور ڈویلپمنٹ پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔
صدر مملکت نے شعبہ صحت کی بہتری کے لئے ڈیٹا مرتب کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ لوگوں تک ٹیکنالوجی کے ذریعے رسائی حاصل کی جا سکتی ہے، آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے بیماریوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
ڈاکٹرعارف علوی نے کہا کہ پاکستان کے لئے افریقی مارکیٹ میں بہت مواقع ہیں، اے آئی اور ٹیکنالوجی میں ہماری اپروچ مناسب نہیں ہے، فیصلہ سازی کی غلطیاں اور کرپشن جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی حدت کا مقابلہ کرنے کے لئے نہ صرف حکومتی بلکہ انفرادی سطح پر بھی کوششوں کی ضرورت ہے،کیوبا نے صحت کی سہولیات کے معاملہ میں بہت ترقی کی ہے، پاکستان کے نظام میں بہت کمزوریاں ہیں۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا مزید کہنا تھا کہ ملک کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اس کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے، فارما انڈسڑی کو ملک کی بڑھتی آبادی میں اضافے کو روکنے کے لئے خاندانی منصوبہ بندی کی مصنوعات کو تیار کرنا چاہیے۔



















