محسن نقوی نے کہا ہے کہ مسیحی برادری کے جان ومال کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔
تفصیلات کے مطابق نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی سے مسیحی برادری کے رہنماؤں کے نمائندہ وفد کی ملاقات جس میں آئی جی پنجاب اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم نے جڑانوالہ کے واقعہ کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی جبکہ اقلیتی رہنماؤں نے جڑانوالہ واقعات کے متعلق اظہار خیال کیا۔
مالقات میں گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے کہا کہ جڑانوالہ واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، دین اسلام اورنبی پاکؐ کی تعلیمات کی روشنی میں اقلیتوں کے حقوق پر جمعتہ المبارک کے خطبات دیئے گئے۔
محسن نقوی نے کہا کہ قائداعظم کے پاکستان میں ایسے افسوسناک واقعات کی کوئی گنجائش نہیں، ہم نے سب کے ساتھ ملکر ایسے و اقعات کی مستقل روک تھام کیلئے جامع پالیسی مرتب کرنی ہے، پوری کوشش ہے کہ گرجاگھروں کو جلدازجلد اصل حالت میں بحال کیا جائے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ تباہ ہونے والے گھروں کے نقصان کا تخمینہ لگایا جارہا ہے،متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد دی جائیگی۔ یہ ایک بڑا سانحہ ہے،شواہد مل گئے ہیں اور ویڈیوز بھی،شرپسندوں کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لائیں گے۔
نگران وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ جڑانوالہ سانحہ کے ذمہ دار کیفرکردار تک پہنچانے کے لئے جہاں تک ممکن ہو سکا جائیں گے، سانحہ کے ذمہ دار قانون سے نہیں بچ سکیں گے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مسیحی برادری کے جان ومال کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے، اس دلخراش واقعہ کو بھول نہیں سکتے، مستقبل میں ایسے سانحہ کو روکنے کیلئے سب کو ملکر موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
محسن نقوی نے کہا کہ تعلیمی نصاب میں رواداری کاعوامی شعور بیدار کرنے کے لئے ترامیم ضروری ہیں، تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے جڑانوالہ واقعات کی بھرپور مذمت کی۔
نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے مزید کہا کہ ملک ہمارا ہے، جڑانوالہ واقعہ کی صورت میں جو دھبہ لگا اس کو مل کر مٹانا ہے، کرسچین خاندانوں کے تحفظ اور گرجا گھروں کی بحالی کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کئے جائیں گے۔
وفد میں سینیٹر کامران مائیکل،بشپ آزاد مارشل،سابق ایم پی اے شکیل مارکس کھوکھر، شہزاد گل،پاسٹرجمیل ناصر،کرنل میکڈونلڈ چندی،پاسٹر انور فضل،پاسٹر وسیم اللہ کھوکھر،بشپ سبسٹین شاہ اوردیگر شامل تھے۔
انسپکٹر جنرل پولیس،ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری اوقاف،سیکرٹری انسانی حقوق واقلیتی امور،متعلقہ حکام،ندیم رضابھی اس موقع پر موجود تھے۔



















