آئندہ عام انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نئی حلقہ بندیوں کا فارمولہ تیار کرلیا ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے نئی حلقہ بندیوں کے تیار کردہ فارمولے کے مطابق حلقہ بندیاں آبادی کی بنیاد پر موجودہ نشستوں پر ہوں گی، قومی و صوبائی اسمبلیوں کی سیٹوں کی موجودہ تعداد برقرار رہے گی اور ان کے نمبر بھی برقرار رہیں گے جبکہ حلقہ بندیاں شمال سے جنوب ہوں گی۔
قومی اسمبلی کے حلقے کا کوٹہ پنجاب میں لاکھ 5 ہزار 595، سندھ میں 9 لاکھ 13 ہزار 51، خیبرپختونخواہ میں لاکھ 7 ہزار 913، بلوچستان میں9 لاکھ 30 ہزار 900 اور اسلام آباد میں 7 لاکھ 87 ہزار 954 کی آبادی پر ہوگا۔
پنجاب اسمبلی کے حلقے کا کوٹہ 4 لاکھ 29 ہزار 929 ہوگا، سندھ اسمبلی کے حلقہ کا کوٹہ 4 لاکھ 28 ہزار 431 ہوگا، خیبرپختونخواہ اسمبلی کے حلقہ کا کوٹہ 3 لاکھ 55 ہزار 270 ہوگا، بلوچستان اسمبلی کے حلقہ کا کوٹہ 2 لاکھ 92 ہزار 47 ہوگا۔
الیکشن کمیشن حلقوں کی آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کرسکتا ہے، دریا، پہاڑ، قدرتی رکاوٹ موٹر ویز حلقوں میں آنے پر باونڈریز تبدیل ہوسکیں گی، الیکشن کمیشن ضرورت پڑنے پر اضلاع کی باونڈریز توڑ سکتا ہے، قانون کے مطابق دو اضلاع کے علاقوں کو ایک حلقہ میں شامل کیا جاسکتا ہے۔
قومی اسمبلی کی 266،پنجاب اسمبلی 297 جنرل نشستوں پر حلقہ بندیاں ہونگی۔
سندھ اسمبلی کی 130،بلوچستان اسمبلی کی 51 اور خیبرپختونخواہ اسمبلی کی 115 نشستوں پر حلقہ بندیاں ہونگی۔



















