نگراں وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ صدر مملکت نے کہا کہ بل واپس بھیج دیے ہم کہتے ہیں نہیں بھیجے۔
تفصیلات کے مطابق نگراں وزیر اطلاعات مرتضٰی سولنگی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت عارف علوی نے ایک ٹوئٹ اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے کی اور انہوں نے دو بل جو ان کو بھیجے گئے اس پر کچھ کہا ہے،ایسا لگتا ہے جیسے کہ کوئی بڑا بھونچال آگیا ہے، اس پر وزیر قانون احمد عرفان اسلم کو بلایا کہ وہ یہاں اس کی وضاحت کریں، آئین کے آرٹیکل 75 کو آرام سے دیکھا جا سکتا ہے، اگر کوئی ابہام تھا تو وزارت قانون کی وضاحت کے بعد وہ ختم ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ ٹوئٹ میں صدر مملکت نے جو اعتراض کیا کہ ان وجوہات کی وجہ سے بل واپس بھجوایا، انہوں نے جو اعتراضات لگائے ہیں یہی اعتراضات اس بل پر لگا کر واپس بحیج سکتے تھے جیسا کہ ماضی میں کرتے تھے۔
نگراں وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے مزید کہا کہ غیر جانبدار نگران آئینی حکومت کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ اگر کوئی شخص یا گروہ ملک کے آئیںن سے متعلق ابہام پیدا کرے تو اس کا جواب نہ دے، اگر کوئی کسی قسم کا ابہام پیدا کرے گا اور ہم قانون و آئین میں رہ کر اس کا جواب دیں تو یہ سیاسی نہیں ہوگا، صدر صاحب کا عملہ آگر غفلت کا مرتکب ہوا اور ان کی پیروی نہیں کر رہا تو صدر صاحب بہتر سمجھتے ہیں کہ کیسے ان سے کام لینا ہے۔



















