Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

قوانین کے اطلاق کیلئے ہمیشہ جدوجہد کی، عطاء تارڑ

 سابق وزیر اعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی اور مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ قوانین کے اطلاق کیلئے ہمیشہ جدوجہد کی۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی اور مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما عطاء تارڑ نے نینشل پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک انہونی ہوئی، میں قانون کا ایک ناقص سا طالب علم ہوں، وکلاء تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، اس ملک میں قوانین بنتے اور ٹوٹتے دیکھے ہیں، قوانین کے اطلاق کے لیے ہمیشہ جدوجہد کی، آج جو مناظر دیکھے وہ کبھی نہیں دیکھے، ہر مقدمے کا طریقہ کار ہوتا ہے کہ وہ شروع کہاں سے ہوگا ختم کہاں ہوگا، مقدمہ لوئر کوٹ سے شروع ہوتا ہے پھر سٹرکچر کے تحت وہ بڑی عدالتوں میں جاتا ہے، اپیل کا آپشن پہلے ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں استعمال کیا جاسکتا ہے، درجہ بہ درجہ کورٹس کا دروازہ کھٹکھٹایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترتیب اور قوانین سب موجود ہے لیکن اس ترتیب کو کچھ لوگوں کو فائدہ دینے اور کچھ کو نقصان دینے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، پانامہ کیس میں ٹرائل کورٹ پر اثر انداز ہوا گیا، پانامہ کیس میں ملزم کے نقصان میں اعلیٰ عدالتوں نے اپنا کردار ادا کیا، کچھ ملزمان کو لاڈلے پن کا درجہ حاصل ہے، لاڈلوں کے لیے آئین، دستور اور روایات کچھ نہیں دیکھا جاتا، ہر قانون اور دستور کو لاڈلے کے فائدے میں استعمال کرنے کی تدبیر تلاش کی جاتی ہے، یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ وہ اوپر سے اتری کوئی چیز ہے اور اسے فائدہ پہنچانا ہے، توشہ خانہ کیس میں یہ ثابت ہوگیا کہ چوری بھی کی گئی اور اثاثے بھی چھپائے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک شخص مسلم امہ کا لیڈر بننے کا دعویدار تھا، حقیقت یہ نکلی کہ دوست ممالک سے تحائف کی خریدوفروخت شروع کی گئی اسے کاروبار بنایا گیا، ایک شخص نے تحائف نے تحائف کو انڈر ویلیو کرکہ بلیک مارکیٹ میں بیچا، تحائف بیچ کر جو رقم حاصل کی وہ اہل خانہ کے لیے استعمال کی گئی، خانہ کعبہ کے ڈائل والی گھڑی نایاب تھی، اس کی کوئی قیمت نہیں تھی، اس طرح کی چیزیں خریدنے کے قابل نہیں ہوتیں ان کی کوئی قیمت نہیں ہوتی یہ خاص طور پر آڈر پہ تیار کی جاتی ہیں، سعودی حاکم نے خریدوفروخت کے لیے اتنی نایاب چیز نہیں دی تھی، ان تحائف کو ڈکلیئر نہیں کیا گیا۔

سابق وزیر اعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی اور مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما عطاء تارڑ نے کہا کہ محترم چیف جسٹس کو مبارکباد پیش کرتے ہیں آج انہوں نے تاریخ رقم کی ہے، کسی فوجداری مقدمے میں ایسا نہیں ہوتا کہ معاملہ ہائیکورٹ میں ہو اپیل پینڈنگ ہے اور معاملہ سپریم کورٹ میں زیر بحث ہے، آپ کو چیئرمین پی ٹی آئی سے خاص لگاؤ ہے، آپ کو آج بھی عدالت میں چیئرمین پی ٹی آئی نظر آرہے تھے، آپ نے آج ہائیکورٹ کے ہاتھ باندھ دیے ہیں، کون جونیئر جج ہمت کرے گا کہ آپ کے ارشادات کی خلاف ورزی کرے؟؟ اتنی بڑی نا انصافی؟؟ یہ کیس 11 ماہ چلا ہے، جج ہمایوں تیزی میں نہیں بلکہ چیف جسٹس غیر ضروری اجلت میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کو یہ کیس نہیں سننا چاہیے، تاریخ رقم ہورہی ہے ایک ملزم کی سزا معطلی کے لیے سپریم کورٹ بے تاب نظر آرہا ہے، آپ کی فیملی کی چیئرمین پی ٹی آئی سے جزباتی وابستگی ہے، کیا مظاہر علی اکبر نقوی نے شاہ رخ جتوئی کیس میں ملزم کو قتل کے کیس میں باعزت بری نہیں کیا تھا؟؟ کیا کسی احمد اور بوٹے کو بھی ایسے انصاف ملتا ہے؟؟

سابق وزیر اعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی اور مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما عطاء تارڑ نے مزید کہا کہ صدر پاکستان نے 14 اگست کو چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا میں 6 مہینے کمی کا فیصلہ کیا ہے، یہاں پر لاء نہیں بلکہ مدر ان لاء ہے۔

 

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔

متعلقہ خبریں