ایوان صدر نے چیف الیکشن کمیشنر سنکندر سلطان راجہ کے جوابی خط کے بعد انتخابات کی تاریخ دینے سے متعلق اختیار کیلیے وزارِت قانون و انصاف سے رائے مانگ لی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایوان صدر کی جانب سے وزارت قانون و انصاف کے سیکرٹری کے نام خط لکھا گیا جس میں صدر مملکت عارف علوی کے کل کے خط کے جواب میں الیکشن کمیشن کے مؤقف پر رائے مانگی گئی۔
گزشتہ روز صدر مملکت عارف علوی نے چیف الیکشن کمیشنر کے نام خط لکھ کر انہیں گزشتہ روز یا آج ملاقات کی دعوت دی تھی تاکہ عام انتخابات کی تاریخ طے کی جا سکے تاہم سکندر سلطان راجہ نے جواب خط میں کہا کہ صدر مملکت کو انتخابات کی تاریخ دینے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے اپنے خط میں کہا ہے کہ صدر اس وقت الیکشن کی تاریخ دے سکتے تھے جب وہ خود اسمبلیاں تحلیل کرتے۔
جوابی خط کے بعد صدر مملکت کی جانب سے انتخابات کی تاریخ دینے کا امکان ہے، صدر آئین کے آرٹیکل 48 کی شق 5 کے تحت خود تاریخ دے سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق صدر مملکت نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر مشاورت سے متعلق آئینی حق استعمال کر لیا، چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے جوابی خط کے بعد صدر کی جانب سے تاریخ دینے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے صدر مملکت داکٹر عارف علوی کو خط لکھ کر ایوان صدر مشاورت کیلئے نہ آنے کے حوالے سے آگاہ کر دیا۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے صدر مملکت کو جوابی خط لکھا جس میں انہوں نے آگاہ کیا کہ الیکشن ایکٹ سیکشن 57 میں ترمیم کی گئی، قومی اسمبلی 8 اگست کو وزیر اعظم کی ایڈوائس پر تحلیل کی گئی، الیکشن ایکٹ میں ترمیم سے قبل الیکشن شیڈول کیلئے صدر کے ساتھ مشاورت ضروری تھی، صدر ازخود اسمبلی تحلیل کریں تو الیکشن کی تاریخ دینا صدر کا اختیار ہے۔
چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ صدر نے وزیر اعظم کی ایڈوائس پر اسمبلی تحلیل کی، اس لیے الیکشن کی تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، موجودہ صورتحال میں انتخابات کی تاریخ کیلئے صدر سے مشاورت ضروری نہیں، الیکشن کمیشن اس وقت حلقہ بندیوں میں مصروف ہے۔
حالات حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















