نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے عوام مشکل میں ہے۔
تفصیلات کے مطابق نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے بجلی کے بلوں کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے عوام مشکل صورتحال سے دوچار ہیں، نگران وزیراعظم نے کل بجلی کی قیمتوں کے حوالے سے اعلیٰ سطحی کا اجلاس طلب کیا ہے، پاور سے متعلق تمام اسٹیک ہولڈرز کو اجلاس میں مدعو کیا گیا ہے۔
وفاقی سیکریٹری پاور ڈویژن نے بجلی کے بلوں کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ صارف کے لئے بجلی کے ٹیرف کا تعین تین طریقوں سے ہوتا ہے، بجلی کے ٹیرف کا تعین نیپرا کرتا ہے، سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کا تعین نئے پاور پلانٹس کے لئے ہے، کنزیومر پرائس انڈیکس کے تحت بجلی کی قیمتوں میں ردوبدل ہوتا ہے، کے آئی بی او آر بڑھنے سے بھی ٹیرف میں تبدیلی کرنا پڑتی ہے، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے بھی بجلی کی قیمتوں میں فرق آتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایک صارف مئی میں تین سو یونٹ استعمال کرتا ہے اور اس کا جولائی کے بل میں فرق لگ کر آتا ہے۔
وفاقی سیکریٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ مالی سال 2023 میں ہم نے جو 195 روپے ڈالر ریٹ کے مطابق نرخ نوٹیفائی کئے جبکہ ڈالر کی قیمت 284 روپے تک گئی، ہم نے آر ایل این جی کی قیمت 3183 ایم ایم بی ٹی یو روپے مقرر کرنے کا پلان بنایا جبکہ آر ایل این جی کی قیمت 3 ہزار سے 3800 کے درمیان رہی، اسی طرح درآمدی کوئلے کی قیمت بھی 51 ہزار سے 61 ہزار روپے فی میٹرک رہی، اگلے سال ہم نے 2 ٹریلین روپے صرف کپیسٹی پے منٹس کی مد میں ادائیگیاں کرنی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا بڑا فرق 400 یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرنے والوں پر لاگو ہوا، 63.5 فیصد ڈومیسٹک صارفین کے لئے ٹیرف میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، 31.6 فیصد ڈومیسٹک صارفین کے لئے بجلی کی قیمتوں میں 3 روپے سے 6.5 روپے فی یونٹ اضافہ ہوا، صرف 4.9 فیصد ڈومیسٹک صارفین کے لئے ٹیرف میں 7.5 روپے فی یونٹ اضافہ ہوا، ڈومیسٹک صارفین کے لئے اوسطاً ٹیرف میں 3.82 روپے کا اضافہ ہوا، دیگر کیٹیگریز میں آنے والے صارفین کے لئے 7.5 روپے فی یونٹ اضافہ ہوا۔
وفاقی سیکریٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ جولائی 2022 میں زیادہ سے زیادہ بجلی کا ٹیرف 31.02 روپے فی یونٹ تھا، اگست 2023 میں 33.89 روپے فی یونٹ بجلی کی قیمت ہے، ڈیسکوز کے افسران کو فراہم کئے جانے والے بجلی کے مفت یونٹس ختم کر رہے ہیں، واپڈا کے پرانے ملازمین علاوہ کسی محکمے میں بجلی کے بلوں میں رعایت نہیں دی جا رہی، اس وقت یہ رعایت ڈسکوز کے ملازمین کو مل رہی ہے، ایسا نہیں کہ تمام بوجھ بجلی کا بل ادا کرنے والوں پر ڈالا جا رہا ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















