کراچی فش ہاربر اتھارٹی نے فول پروف سیکیورٹی کا پلان تیار کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی فش ہاربر اتھارٹی نے سندھ حکومت سے 150 ملین مانگ لیے۔
اتھارٹی نے اسکیم کی منظوری کے لیے سمری سیکریٹری لائیو اسٹاک اینڈ فشری کو بھیج دی۔
کراچی فش ہاربر پر مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کی آپ گریڈیشن کی جائے گی، فشری میں آنے جانے والے افراد کا ڈیٹا مرتب نہیں ہوتا، مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے زریعے لوگوں کی آمد و رفت اور شکار پر جانے والوں کا ڈیٹا مرتب کیا جائے گا اور کنٹرول روم کے ذریعے نگرانی کی جائے گی۔
سمری کے مطابق کراچی فش ہاربر 84 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے، یہ پاکستان میں ماہی گیری کے شعبے کا ایک مرکز ہے، اس وقت کوئی ایسا سیکیورٹی میکانزم موجود نہیں ہے جو کراچی کی مجموعی سیکیورٹی کو یقینی بنائے، غیر چیک شدہ ماہی گیری کی کشتیوں کی نقل و حرکت تشویش کا باعث ہے، کراچی فش ہاربر سے نکلنے کے ساتھ ساتھ آنے والے تمام لوگوں کی غیر منظم نقل و حرکت اور فشنگ ویسلز میں سوار ہونا تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
بھیجے جانے والی سمری میں کہا گیا کہ اس لیے وسیع تر قومی مفاد میں کراچی فش ہاربر پر سیکیورٹی کے سخت حفاظتی اقدامات کو اپنانے ضروری ہے، اب ضروری ہے کراچی فش ہاربر اپنے مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کو بہتر پیشہ ورانہ انداز میں سیکیورٹی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے اپ گریڈ کرے، سندھ حکومت 15 کروڑ روپے مختص کرے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















