سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف معاشی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹر ذیشان خانزادہ کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی تجارت کا اجلاس ہوا جس میں ایڈیشنل سیکرٹری وزارت تجارت نے کمیٹی کو پورٹ پر موجود گاڑیوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔
ایڈیشنل سیکرٹری تجارت کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پورٹ پر کھڑی گاڑیوں کی کلیئرنس کے حوالے سے کابینہ کو سمری بھیجی گئی تھی، کابینہ نے گاڑیوں کی کلیئرنس کی سمری منظور نہیں کی۔
وزارت تجارت حکام کا کہنا تھا کہ سندھ ہائیکورٹ نے گاڑیوں کے کلیئرنس کے حوالے سے کابینہ کو فیصلہ کرنے کا اختیار دیا، گزشتہ حکومت کی کابینہ کے آخری اجلاس میں سمری مسترد کی گئی، گاڑیاں درآمد کرنے والوں نے اپنی مرضی سے گاڑیاں درآمد کیں، وزارت تجارت سے گاڑیوں کی درآمد کی اجازت نہیں لی۔
سینیٹر فدا محمد کا اس موقع پر کہنا تھا کہ اس ملک کی تباہی کے ذمہ دار آئی پی پیز ہیں، آئی پی پیز کے ساتھ کیے معاہدے مسائل کی جڑ ہیں، آئی پی پیز اس وقت ملک میں بجلی کے بلوں میں اضافے کی ذمہ دار ہیں، ساہیوال کوئلہ پلانٹ منصوبہ 20 فیصد کام کر رہا ہے، ادائیگی 100 فیصد ڈالرز میں ہو رہی ہے، اس وقت ملک میں لوگ بجلی بلوں کیلئے نکل رہے ہیں ہماری ذمہ داری ہے۔
وزیر تجارت گوہر اعجاز کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے 103 پاکستانیوں کا 25 کروڑ پاکستانیوں سے مقدمہ ہے، اس حوالے سے ایک قرارداد پیش کی جائے میں آپ کے ساتھ ہوں۔
حالات حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















