نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ آئندہ انتخابات کی تاریخ کا فیصلہ الیکشن کمیشن کرے گا۔
تفصیلات کے مطابق نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ انتخابات کے حوالے سے قیاس آرائیاں ختم ہونی چاہئیں کیونکہ یہ مروجہ قانون کے مطابق ہوں گے اور آئندہ انتخابات کی تاریخ کا فیصلہ الیکشن کمیشن کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نگران حکومت کی مدت کو طول دینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے، پاکستان کی تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے مسلم اقلیت کے حقوق کے تحفظ اور اسے اکثریت کے تسلط سے بچانے پر قائداعظم کا شکریہ ادا کریں گے، اگر قائد اعظم مسلمانوں کے لئے الگ ملک قائم نہ کرتے تو مسلمانوں کے مذہبی اور ثقافتی تشخص کا تحفظ مشکل ہو جاتا، وہ قائداعظم کی آئین پسندی، ہمہ گیریت اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے ان کوسراہتے ہیں۔
نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے یقین دلایا کہ سمگلنگ کے خلاف کارروائی جاری رہے گی اور ریاست کی رٹ قائم کی جائے گی،ہم یہ اقدامات اس لئے کر رہے ہیں تاکہ نئی حکومت اپنے مینڈیٹ کے ساتھ عوامی مفاد کے لئے اپنا کام آسانی سے جاری رکھ سکے۔
انہوں نے کہا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی ) کی اپیکس کمیٹی میں موجودہ عسکری قیادت شامل ہے، اس طرح کونسل ایک مضبوط آئینی اور قانونی ادارہ ہے جو ٹھوس اقدامات اور فیصلوں پر عملدرآمد کر رہی ہے۔
انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ نگراں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اچھی کوآرڈینیشن تھی جو فیصلوں پر عملدرآمد میں مددگار ثابت ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ایس آئی ایف سی اقتصادی بحالی کیلئے زراعت اور معدنیات سمیت دیگر شعبوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔،کہ سرمایہ کاری کے بڑے منصوبوں پر کام کیا جائے گا تاکہ اگلی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد وہ ترقی کے مرحلے پر پہنچ سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے افغانستان کے ساتھ کثیر الجہتی تعلقات ہیں اور اس کے ساتھ تجارت، دہشت گردی، سلامتی اور علاقائی رابطوں کے معاملات پر باقاعدہ بات چیت ہوتی ہے۔
انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ دونوں فریق اس احساس کے ساتھ بات کر رہے تھے کہ پڑوسیوں کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ریاست دہشت گردوں کے خلاف اپنی مضبوطی کا مظاہرہ کرے گی کیونکہ کسی بھی حالت میں کسی کو تشدد کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت پر انتخابات میں حصہ لینے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔
9 مئی کے واقعات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ شرپسندوں نے توڑ پھوڑ اور آتش زنی کا سہارا لیا اور اس پورے واقعہ کو مقامی اور بین الاقوامی میڈیا نے رپورٹ کیا۔
انہوں نے کہا کہ واقعہ میں ملوث ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ نواز شریف تین بار وزیراعظم منتخب ہوئے اور جب وہ پاکستان آئیں گے تو ان کے ساتھ ملکی قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کا سیاسی جماعتوں کی قیادت سے ملاقاتیں شروع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، چین دنیا کی سب سے بڑی معیشت بننے کی راہ پر گامزن ہے ۔
انوار الحق کاکڑ نے بتایا کہ پاکستان نے ایک ارب سے زائد آبادی والے براعظم کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے ’’لُک افریقہ‘‘ کی پالیسی اپنائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان باہمی اتفاق رائے سے طے شدہ وقت پرپاکستان کا دورہ کریں گے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کے جسم اور روح کا حصہ ہے اور کشمیریوں نے خود کو پاکستان کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔
انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ کرکٹ سمیت کھیلوں پر سیاست نہیں کی جانی چاہئے اور ہندوستان کے ساتھ کرکٹ سے متعلق مسائل صرف کرکٹ بورڈ کے عہدیداروں کو اٹھانا چاہئے،ہم پاکستان کو کھیلوں کے لئے محفوظ ملک بنا رہے ہیں لیکن ہم کسی ملک کو پاکستان میں کھیلنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے کوئٹہ کے دورے کے دوران یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز سے ملاقات کی اور اب وہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے حکام سے ملاقات کریں گے تاکہ شعبہ تعلیم کو درپیش مسائل کو توجہ سے حل کیا جا سکے۔
نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے مزید کہا کہ حکومت بجلی صارفین کو ریلیف دینے کے معاملے پر جلد فیصلہ کرے گی۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















