ایم کیو ایم نے سانحہ بلدیہ فیکٹری پر عدالتی کمیشن بنانے کا مطالبہ کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق کنوینئر ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی نے اراکین رابطہ کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستار، مصطفیٰ کمال، عبدالوسیم، انیس قائمخانی و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کی۔
خالد مقبول صدیقی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ کسی نے اپنے ملک کی بقا سلامتی اور آزادی کے لیے یقین سے کہا تھا ہمارے ملک کو کوئی خطرہ نہیں، کسی نے کہا تھا ہمارے ملک کی عدالتیں آزاد ہیں، کل ایک افسوناک سانحہ کا فیصلہ 12 سال کی تاخیر کے بعد سنایا گیا، ایم کیو ایم کے دو کارکنان کو عدالت کی جانب سے سزا سنائی گئی، ہم اپنے ان دونوں ساتھیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، ان دونوں ساتھیوں کو چھڑوانے کے لیے عدالتوں کے ساتھ ساتھ جہاں جانا پڑا جائیں گے، ایک فیصلے کو رائے بنا کر کل فیصلہ سنایا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں یہ کہا گیا ایم کیو ایم کی اعلیٰ قیادت کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا، شاید پاکستان میں اس ڈر سے غیر جانبدارانہ اور شفاف الیکشن نہیں ہوتے، ہمارے اجداد کا بنایا ہوا یہ ملک ہے اس کی بقا اور سلامتی کے لیے قربانیاں دیتے رہیں گے، عدالتوں میں سیاسی رابطے جھلکتے ہوں تو نظام انصاف کو آگے بڑھنا ہو گا، ہم سپریم کورٹ اور چیف جسٹس سے مطالبہ کرتے ہیں سانحہ بلدیہ ٹاؤن پر ایک عدالتی کمیشن بنایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس سانحہ کی جے آئی ٹی بھی بنی ہے اور تحقیقاتی رپورٹ بھی بنی ہے، جے آئی ٹی میں اس سانحہ کو حادثہ قرار دیا گیا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہمارے کارکنان کو کیوں سزا دی گئی؟ ساری رپورٹس میں ایسا لکھا ہے فیکٹری مالکان نے کھڑکیوں کے شیشے ہٹوا دیے تھے، فیکٹری مالکان نے گارمنٹس چوری کے ڈر سے خارجی راستہ کوئی نہیں بنایا، لاڑکانہ کی عدالت جا کر فیکٹری مالکان کو چھڑوایا گیا، زبیر بلدیہ فیکٹری کیس کا ملازم تھا، زبیر کو ڈھائی سال تک گودھرا میں بھی انہوں نے اپنا نوکر رکھا۔
ان کا کہنا تھا کہ جس بندے نے آگ لگائی اس کو ایئرپورٹ چھوڑتے تھے مالکان، وہ اگر ایسا تھا تو اس کو ملازمت کیوں دی گئی تھی سوال یہ ہے، بلدیہ فیکٹری کیس جے آئی ٹی کا گواہ جو ہے وہ ایک چرس پینے والا ہے، وہ کہہ رہا تھا میں چرس پینے نیچے گیا تو زبیر کو کمیکل چھڑکتے دیکھا، بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں ہر جگہ کیمرے تھے، 12 سالوں میں کسی عدالت میں ان کیمروں کی ریکارڈنگ کیوں نہیں پیش کی گئی، تمام سی سی ٹی وی کیمرے محفوظ تھے پھر بھی اس کی مدد سے تحقیقات نہیں کی گئی۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















