امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کسی کو کراچی کے عوام کی فکر نہیں۔
تفصیلات کے مطابق جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نگران وزیر اعلیٰ سے کراچی اور سندھ کے حوالے سے بات چیت ہوئی، انہوں نے ہماری بات کو توجہ سے سنا ہے، 15 جنوری کو بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے، ٹرانزیکشن پریڈ ختم نہیں کیا، یوسی چیئرمین اپنا کام نہیں کر پا رہے ہیں، جو اختیار ہونا چاہیے وہ اختیار ابھی نہیں ملا۔
حافظ نعیم نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل کے 140 اے کے تحت تمام اختیارات نچلی سطح پر ہونے چاہیے، واٹر بورڈ کا عملہ ٹاؤن کے ماتحت ہونا چاہیے، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور جتنے بھی محکمہ ہیں، مالیات کے اختیارات ہونے چاہیے، اگر چیئرمین کے پاس اختیار نہیں تو وہ کیسے کام کر سکے گا، منتخب لوگوں کے پاس اختیار ہونا چاہیے، کے الیکٹرک کہنا ہے بجلی کی چوری ہو رہی ہے لیکن کے الیکٹرک کی مدد سے کنڈہ مافیا چل رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عملہ پولیس اور لوگوں کے ساتھ ملا ہوا ہے، کے الیکٹرک خود چوری میں ملوث ہے، قانونی اور غیر قانونی کنڈہ چل رہا ہے، 18 سال میں سب سے زیادہ لائن لاساز ہے، ہم نے کل نیپرا کے اجلاس میں 10 روپے اضافہ کو مسترد کیا ہے، تمام جماعتیں کے الیکٹرک کے ساتھ ملی ہوئی ہیں، شہر میں قبضہ سسٹم چل رہا ہے چاہے ان کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو، جب تک لوگ اندر نہیں ہوں گے کسی کو اطمینان نہیں ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے لوگ آرمی چیف کے اعلان کے بعد منتظر ہیں، لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے، پورے صوبے کا حال تباہ ہے، اسٹریٹ کرائم بڑھ رہا ہے، وزیر اعلیٰ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اقدامات سامنے آئیں گے، نگران حکومت کا کام منصفانہ انتخابات کرانا ہے، بلدیاتی انتخابات میں نتائج تبدیل کیے گئے، انتظامیہ ایسے تبدیل نہ ہو جو کسی کو فیور ملے، الیکشن کمیشن کے ساتھ حکومت کی بھی زمہ داری ہے، ریڈ لائن پروجیکٹ سے جو صورتحال پیدا ہوئی ہے، سائیڈ کی سڑکیں بنی ہونی چاہیے، یہ نہ ہونے کی وجہ سے بدترین ٹریفک جام ہوتا ہے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ کے الیکٹرک والے ہر حکومت کے ساتھ اچھی اچھی باتیں کرتے ہیں، یہ لوگ کریمنل ہیں، مقبول باقر سے توقع نہیں ہے کہ وہ مافیا کے ساتھ کام کریں گے، مردم شماری میں ڈیڑھ کروڑ کی آبادی کھا گئے ہیں، ہماری نمائندگی ہماری ملازمتیں کم ہوئیں، ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے ہماری آبادی پوری ہونی چاہیے، ابا کچھ بول رہے ہیں بیٹا کچھ بول رہا ہے، صرف اعلانات سے مسئلہ حل نہیں ہو گا، اسٹریٹ کریمنل کو پکڑنا چاہیے، کسی کو کراچی کے عوام کی فکر نہیں ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















