Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مساج سنٹر پر غیرقانونی چھاپے کا معاملہ؛ اسلام آباد ہائیکورٹ کا تحریری حکم نامہ جاری

نجی ہاوسنگ سوسائٹی کے مساج سنٹر پر غیرقانونی چھاپے کے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے مساج سنٹر کے افراد کے خلاف درج ایف آئی آر خارج کر دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق مساج سنٹر پر غیرقانونی چھاپے کے دوران وہاں موجود لوگوں سے پونے چھ لاکھ روپے لیے گئے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

تحریری حکم نامے کے مطابق پولیس اہلکاروں نے قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی، پٹیشنرز اور دوسرے افراد کے خلاف کارروائی مذموم مقاصد کے لیے شروع کی گئی، پٹیشنرز اور دیگر کے خلاف بدنتی پر مبنی کارروائی ان کو ہراساں کرنے کے لیے کی گئی، پٹیشنرز کے خلاف ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جس پر ان کو سزا دی جاسکے، پٹیشنرز کے خلاف اس کیس میں تفتیش، پراسیکیوشن یا ٹرائل قانون کے غلط استعمال کے مترادف ہوگا۔

تحریری فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ایف آئی آر غلط دفعات کے تحت دائر کی گئی، دفعہ 371 کے تحت مساج سنٹر کے خلاف مقدمہ نہیں بنتا، ایف آئی آر کا اندراج اور اس پر کی جانے والی کارروائیاں صریحاً غیر قانونی ہیں، پولیس اور انتظامیہ فیصلہ پڑھیں تاکہ آئندہ غلط پریکٹس سے بچا جاسکے، محض درخواست گزار کو ہراساں کرنے کے لیے غلط مقاصد اور بددیانتی کے لیے مقدمہ بنایا گیا، سنٹر کے خلاف سزا سنانے کیلئے کوئی ثبوت موجود نہیں ہیں، پولیس اہلکاروں نے آئین میں فراہم کردہ قانون اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔

واضح رہے کہ مساج سینٹر پر چھاپے کی ایف آئی آر تھانہ لوئی بھیر میں درج کی گئی تھی، اندراج مقدمہ کے خلاف عمر اور انس اسحاق سمیت 8 افراد نے عدالت سے رجوع کیا تھا، درخواستوں میں ایس ایچ او تھانہ لوئی بھیر اور ریاست کو فریق بنایا گیا تھا۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں