سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سرپرائز اعلان کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئین الیکشن کمیشن کی ذمہ داری لگاتا ہے کہ وہ صاف شفاف الیکشن کرائے۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے نئی مردم شماری کے حوالے سے پہلے ہی 4 ماہ کا کہہ دیا تھا، نئی حلقہ بندیوں پر الیکشن کیلئے آپ کو ساڑھے 4 ماہ دینے ہوں گے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ انہوں نے کہا ہے صدر مملکت الیکشن کرا ہی نہیں سکتا، الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، الیکشن کی تاریخ اس کو پتہ ہے جوالیکشن کرائے گا، الیکشن کی تاریخ الیکشن کمیشن نے دینی ہے جو وہ دے گا اس دن الیکشن ہوں گے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے مسائل الیکشن سے ہی حل ہوتے ہیں، الیکشن نہیں ہوں گے تو جماعتیں کیا کریں گی، یہ سیاست کھیلنے کا وقت نہیں، بلاول بھی کابینہ کے اندر موجود تھے جب یہ سب فیصلے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت سی سی آئی میں فیصلہ کر کے گئی تھی نئی مردم شماری پر الیکشن ہوں گے، نئی مردم شمارے پر الیکشن کی تاخیر کا الیکشن کمیشن بتا چکا ہے، اگر کسی کو مسئلہ ہے تو وہ سپریم کورٹ چلا جائے، سی سی آئی کی میٹنگ میں وزیراعلیٰ سندھ اور بلاول بھٹو بھی شریک تھے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ صدر تاریخ دے دیں تو الیکشن تو نہیں ہو پائیں گے، میں تو کہتا ہوں آج ہی الیکشن ہو جائیں مگر یہ ہو نہیں سکتا، نئی حلقہ بندیوں پر الیکشن کیلئے وقت کی ضرورت ہے۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ شہباز شریف کی حکومتی ذمہ داری ختم ہو گئی ہے، شہباز شریف باہر چلے گئے ہیں تو واپس بھی آ جائیں گے، شہباز شریف اب کسی کے ملازم نہیں، وہ اپنی مرضی سے واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نواز شریف سے مشاورت کیلئے باہر گئے تھے، شہباز شریف ہفتہ 10دن میں واپس آ جائیں گے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک میں ایک نئی جماعت کی گنجائش بھی ہے، میرا کوئی جماعت بنانے کا دعویٰ نہیں لیکن جماعت کی گنجائش آج بھی ہے۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ آج کسی نے بھی عوام کے مسائل پر بات نہیں کی، ملکی معیشت، عوام کی تکلیف اور حل پر بات کریں تو معاملہ چلے گا۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور چیئرمین پی ٹی آئی کو ساتھ بیٹھنا پڑے گا، صدر ان دونوں کو ساتھ بٹھا سکتے ہیں لیکن آج وہ خود جانبدار ہوگئے ہیں۔
ملک کی لیڈرشپ کو ملک کے معاملات کی سنجیدگی کا اندازہ نہیں، سب اپنے معاملات میں پھنسے ہوئے ہیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















