صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے انتخابات سے متعلق خط پر الیکشن کمیشن نے اہم اجلاس کل طلب کرلیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق چیف الیکشن کمشنر نے خط کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے اہم اجلاس کل طلب کر لیا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے سیکرٹری الیکشن کمیشن اور ڈی جی لاء کو خط پر فوری مشاورت کرنے کی ہدایت کی اور آج اجلاس میں صدر مملکت کی جانب سے لکھے گئے خط کا جائزہ لیا گیا۔
الیکشن کمیشن کی قانونی ٹیم نے صدر مملکت کے خط کی روشنی میں مختلف تجاویز تیار کر لیں۔
قانونی ٹیم اپنی تجاویز کل الیکشن کمیشن کے اجلاس میں پیش کرے گی۔
الیکشن کمیشن صدر کی جانب سے لکھے گئے خط کے بعد کی صورتحال پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گا۔
صدر مملکت کی عام انتخابات 6 نومبر 2023 کو کرانے کی تجویز
واضح رہے کہ صدر مملکت عارف علوی نے الیکشن کمیشن کو 6 نومبر 2023 کو ملک بھر میں عام انتخابات کرانے کی تاریخ دیدی ہے۔
صدر عارف علوی نے چيف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے نام خط لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ میں نے9 اگست کووزیراعظم کےمشورے پرقومی اسمبلی کوتحلیل کیا اور آئین کے آرٹیکل 48(5) کے تحت صدر کا اختیار ہے کہ اسمبلی میں عام انتخابات کے انعقاد کے لیے، تحلیل کی تاریخ سے نوے دن کے اندر کی تاریخ مقرر کرے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 48(5) کے مطابق قومی اسمبلی کیلئے عام انتخابات قومی اسمبلی کی تحلیل کی تاریخ کے 89ویں دن یعنی پیر 6 نومبر 2023 کو ہونے چاہئیں۔
صدر مملکت نے خط میں کہا ہے کہ آئینی ذمہ داری پوری کرنے کی خاطر چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کے لیے مدعو کیا گیا تاکہ آئین اور اس کے حکم کو لاگو کرنے کا طریقہ وضع کیا جا سکے۔
خط کے متن کے مطابق چیف الیکشن کمشنر نے جواب میں برعکس مؤقف اختیارکیاکہ یہ الیکشن کمیشن کا اختیار ہے،اگست میں مردم شماری کی اشاعت کے بعد حلقہ بندیوں کا عمل بھی جاری ہے اور آئین کے آرٹیکل 51(5) اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 17 کے تحت یہ ایک لازمی شرط ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ وفاقی وزارت قانون و انصاف بھی الیکشن کمیشن آف پاکستان جیسی رائے کی حامل ہے ، چاروں صوبائی حکومتوں کا خیال ہے کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن آف پاکستان کا مینڈیٹ ہے، وفاق کو مضبوط بنانے کیلئے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے عام انتخابات ایک ہی دن کرائے جانے پر اتفاق ہے۔
صدر مملکت نے خط میں مزید کہا ہے کہ الیکشن کمیشن ذمہ دار ہے کہ وہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے آرٹیکل 51، 218، 219، 220 اور الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت طے شدہ تمام آئینی اور قانونی اقدامات کی پابندی کرے، تمام نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن آئین کی متعلقہ دفعات کے تحت صوبائی حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت اور اس بات کے پیش نظر کہ کچھ معاملات پہلے ہی زیر سماعت ہیں، قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں ایک ہی دن انتخابات کرانے کیلئے اعلیٰ عدلیہ سے رہنمائی حاصل کرے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















