وکلاء کنونشن میں کی گئی تقریر اور ریاستی پالیسی پر تنقید کرنے پر پاکستان پیپلزپارٹی نے سینئیر رہنما لطیف کھوسہ کو شوکاز نوٹس جاری کردیا۔
تفصیلات کے مطابق وکلاء کنونشن میں کی گئی تقریر اور ریاستی پالیسی پر تنقید کرنے پر پیپلزپارٹی نے لطیف کھوسہ سے جواب طلب کرلیا اور شوکاز نوٹس کا سات روز میں وضاحت نہ دینے پر لطیف کھوسہ کے خلاف کارروائی کا عندیہ دے دیا۔
شوکاز نوٹس میں کہا گیا کہ ایک ایسے پارٹی سربراہ کا دفاع کیا جو کرپشن اور سیکرٹ ایکٹ کے تحت سزا یافتہ ہے، شوکاز نوٹس کا وضاحت نہ دینے کی صورت میں پالیسی کے تحت کارروائی کی جائے گی، شوکاز نوٹس میں سات روز میں جواب طلب کیا گیا ہے۔
پیپلزپارٹی کی جانب سے جاری شوکاز نوٹس کے مطابق سی ای سی کے رکن ہونے کے باوجود پارٹی کی اجازت کے بغیر آپ کسی اور جماعت کے سربراہ کا دفاع کر رہے ہیں۔ وکلاء کی کنونشن میں سائفر معاملے پر آپ نے ریاستی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
شوکاز نوٹس میں مزید کہا گیا کہ بتائیں کہ آپ کے خلاف تادیبی کارروائی کیوں نہ کی جائے، سات روز میں شوکاز نوٹس کا جواب دیں، جواب نہ دینے کی صورت میں آپکی پارٹی رکنیت ختم کردی جائے گی۔
خیال رہے کہ لطیف کھوسہ کے خلاف شوکاز نوٹس پیپلزپارٹی کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے جاری کیا گیا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















