امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کے کسی لیڈر کے دامن پر کرپشن کا داغ نہیں ہے۔
تفصیلات کے مطابق اپنے ایک بیان میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ عظیم الشان دھرنے کے آغاز پر میں جماعت اسلامی قیادت و کارکنوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انتظامیہ اجازت نہیں دے رہی تھی مگر ہم نے کہا کہ یہ سڑک عوام کی ہے،عوام چاہے تو سڑک پر آسکتی ہے جبکہ چاہے تو گورنر ہاؤس کے اندر بھی جاسکتی ہے۔
سراج الحق نے کہا کہ75 سالوں سے اس ملک پر ڈاکو راج ہے، حکمرانوں نے اس ملک اور عوام کو یرغمال بنا لیا ہے، جماعت اسلامی عوام کے ساتھ مل کر وقت کے ظالموں کو پاش پاش کردیں گے۔
امیر جماعت اسلامی نے یہ بھی کہا کہ پہلے دن سے یہاں آئین،قانون اور شرعیعت کی دھجیاں اڑائی گئی، انگریزوں کے غلاموں نے پہلے دن سے پاکستان پر قبضہ کیا جو آج تک برقرار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کے کسی لیڈر کے دامن پر کرپشن کا داغ نہیں ہے، ہم سب نے مل کر ان اشرافیہ کے گریبانوں میں ہاتھ ڈال کر پاکستان کو حقیقی ازادی دلانی ہے اور جس طرح آج لاہور کے لوگ باہر نکلیں ہیں وہ قابل تعریف ہے۔
سراج الحق کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان ہم سب کا ہے،پاکستان کی تعمیر میں ہمارے بزرگوں کی قربانیاں ہیں، پاکستان کو دشمن کی ایٹمی طاقت سے نہیں بلکہ ایوانوں میں موجود سیاسی،معاشی دہشت گردوں سے خطرہ ہے، دھرنے کے تیسرے روز اہم اعلان کروں گا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ان ظالمون نے آج پاکستان کی 24 کروڑ عوام کو اپنے حق سے محروم رکھا ہے، پاکستان کی غریب و مظلوم عوام اٹھے اور 75 سالوں کا حساب کتاب لے اور ان کرپٹ حکمرانوں کے پیٹ سے لوٹا ہوا مال نکالے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی عوام کی صلاحیتوں کو استعمال کیا جاتا تو آج ہم بھیک نہ مانگ رہے ہوتے، آج ان کی معاشی و سیاسی دہشت گردی کی وجہ سے ایک ایک پائی کا محتاج ہے جبکہ ان غداروں کی وجہ سے آج پاکستان کا نشان کشکول بن گیا ہے
سراج الحق کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں معدنی خزانے موجود ہیں ،نوجوان نسل کا تحفہ ہے مگر آج اس ملک میں آٹا کی قلت ہے جبکہ اووسیز پاکستانی اربوں ڈالرز کا ذر مبادلہ یہاں بھیجتا ہے مگر جب واپس آتا ہے تو اسکو صاف پانی نہیں ملتا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے ہمسائیہ ممالک نے ترقی کرلی کیونکہ ان کو اچھے حکمران ملے، کینڈا میں ایک سکھ کے قتل پر وہاں کی حکومت نے انڈیا کے سفیر کو نکال دیا جبکہ اسی انڈیا نے ہمارے ملک میں دہشت گردی کی ،مگر ہمارے بزدل حکمرانوں نے ایک لفظ نہیں بولا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ یہ حکمران ہمارے نمائندہ نہیں بلکہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے ترجمان ہیں جبکہ اگر حکمران بہادر ہوں تو بھارت ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ خاموشی سے ظلم سہنا، اپنے آپ سے ظلم اور نسلوں کو غلامی میں دینے کے مترادف ہے۔ سب سے بڑے صوبے پنجاب پرچند خاندان قابض ہیں، اہل پنجاب کو فرسودہ نظام کے خلاف اٹھنا ہوگا۔
سراج الحق کا کہنا تھا کہ سابقہ حکومتوں کا پانچ سالہ دور قوم کے لیے قیامت سے کم نہ تھا، سابقہ حکمرانوں نے آئی ایم ایف کے کہنے پرعوام کو قربانی کا بکرا بنایا۔ اشرافیہ ملک پر بوجھ ہے، قرضے ہڑپ کیے، خون غریب کا نچوڑا جارہا ہے۔
امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا مزید کہنا تھا کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ واپس لیا جائے۔ پیٹرول، گیس کے نرخ کم کیے جائیں جبکہ اشیائے خورونوش عوام کی پہنچ تک لائی جائیں۔ آئی ایم ایف اور آئی پی پیز معاہدوں کی تفصیلات قوم کے سامنے رکھیں جائیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔



















