صدر مملکت نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی سے سعودی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلی کی ملاقات ہوئی جس میں پاکستان اور سعودی عرب نے تجارت، معیشت اور دفاع کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزید بہتر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقات میں صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا، دونوں برادر ممالک مختلف شعبوں میں بہترین تعلقات کے حامل ہیں اور مختلف علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر ان کے خیالات مشترک ہیں۔
ڈاکٹرعارف علوی نے دونوں ممالک کے باہمی فائدے کے لیے دوطرفہ اقتصادی تعلقات بڑھانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ پاکستان سرمایہ کاری کا خواہاں ہے کیونکہ ملک میں زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے خصوصی سرمایہ کاری کی سہولت کونسل تشکیل دی ہے تاکہ فیصلہ سازی کو تیز کرنے اور چار اہم شعبوں میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے لیے ون ونڈو پلیٹ فارم کے طور پر کام کیا جا سکے، دونوں ممالک کی فوجی قیادت کے اعلیٰ سطحی تبادلوں سے دفاعی تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔
صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن کو سراہا اورکہا کہ سعودی عرب نے پاکستان کو معاشی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مالی مدد فراہم کی، سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات معمول پر آئے اور اس سے خطے میں امن اور خوشحالی بھی آئے گی۔
سعودی چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حامد نے دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین شروع سے ہی مختلف شعبوں میں قریبی تعلقات ہیں، سعودی عرب کا وژن 2030 پڑوسی ممالک کے ساتھ ساتھ اسلامی دنیا میں بھی خوشحالی لائے گا۔
پاکستان میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی بھی ملاقات میں موجود تھے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔



















