Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

عوام اور جماعت اسلامی مہنگائی کے خلاف ایک پییج پر ہیں، سراج الحق

سراج الحق نے کہا ہے کہ عوام اور جماعت اسلامی مہنگائی کے خلاف ایک پییج پر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ سے ابھی اسلام آباد پہنچا ہوں، بلوچستان میں بے امنی ، اندھیری نگری اور چوپٹ راج ہے۔

سراج الحق نے کہا کہ مہنگائی نے بلوچستان کے پہلے سے پسے ہوئے عوام کو کچل کر رکھ دیا ہے، ہم نے پشاور کوئٹہ اور لاہور میں گورنر ہاؤسز کے سامنے مہنگائی کے خلاف دھرنے دیئے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ عوام اور جماعت اسلامی مہنگائی کے خلاف ایک پییج پر ہیں جبکہ آئی ایم ایف اور دوسری جماعتیں دوسرے پیج پر ہیں۔

سراج الحق نے کہا کہ جب ہم نے ملک گیر شٹر ڈاون کی کال دی تو عوام نے بائیکاٹ کیا، اس مہنگائی میں گزشتہ پانچ سال اقتدار میں رہنے والے کا کردار ہے، اب ہم کراچی میں گورنر ہاؤس کے باہر دھرنا دینے جارہے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی ہو یا پی ڈی ایم سب نے ملکر عوام کو مہنگائی کے عذاب میں مبتلا کیا، پی ٹی آئی سے توقع تھی کہ اس کے ساتھ کم مافیا ہیں کہ وہ کچھ کرے گی لیکن پی ٹی آئی بھی کچھ نہ کرسکی

 سراج الحق کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے آئی ایم ایف کی غلامی قبول کرنے سے انکار کیا ہے، عوام پر 550ارب روپے بجلی چوری کا بوجھ ہے جبکہ اربوں روپے کا عوام پر بوجھ پی پی پی کے دور میں ڈالا گیا۔

 ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے کرنے والے قومی مجرم ہیں، آئی ایم ایف بھی مالدار لوگوں پر ٹیکس لگانے کا کہتا ہے مگر حکومت انہیں بچاتی ہے، نئے چیف جسٹس سے مطالبہ کروں گا کہ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر ازخود نوٹس لیں

سراج الحق نے کہا کہ کرپٹ اشرافیہ کی جائیدادیں بیچ کر ازالہ کیا جائے، اگر حکومت نے مہنگائی پر بات نہ سنی تو اسلام آباد کی طرف مارچ کرسکتے ہیں، جماعت اسلامی جلد بجلی بلوں میں اضافے کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کرے گی۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن نوے روز میں الیکشن کرانے کا اعلان کررہا ہے، چلو دیر آئے درست کے مطابق اب جنوری میں شفاف الیکشن کرائے جائیں جبکہ واضح تاریخ دے کر الیکش کرائے جائیں۔

 

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں