صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے برطانوی اراکین پارلیمنٹ اور برطانیہ میں پاکستانی اور کشمیری نژاد شہریوں کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق کشمیری نژاد شہریوں کے وفد کی قیادت لیبر فرینڈز آف کشمیر یو کے کے چیئرمین اینڈریو گیوین نے کی۔
صدر پاکستان اور برطانوی اراکینِ پارلیمنٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور ہندوستان میں اقلیتوں پر ظلم و ستم پر بھی اظہارِ تشویش کیا۔
صدر مملکت اور برطانوی وفد نے کہا کہ دنیا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے ہندوستان پر دباؤ ڈالے۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ہندوستان مسلمانوں کی نسل کشی، اقلیتوں پر ظلم و ستم اور جبر میں ملوث ہے، بھارت مانی پور میں گرجا گھروں کو جلانے، تباہ کرنے اور علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر اقلیتی برادریوں کے رہنماؤں کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث ہے، بھارت مانی پور میں گرجا گھروں کو جلانے، تباہ کرنے اور علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر اقلیتی برادریوں کے رہنماؤں کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث ہے، انتہا پسند ہندوتوا نظریہ سے متاثر ہونے سے بھارتی نفسیات بدل رہی ہے، پاکستان اپنی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے، ان کے ساتھ ناانصافی کی صورت میں فوری کارروائی کی، بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، بھارت کشمیری عوام کو ان کی اپنی سرزمین میں اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے، دنیا بھارت پر دباؤ ڈالے کہ وہ مقبوضہ علاقے میں اپنی غیر قانونی آبادیاتی تبدیلیوں کو واپس لے۔
برطانوی وفد کے سربراہ اینڈریو گیوین نے اِنسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیری کے حقوق کی پامالی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
برطانوی ممبر پارلمینٹ نے کہا کہ ہندوستان کی طرف سے جاری تشدد اور بربریت ناقابل قبول ہے، برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر کاز کی حمایت کرتے رہے ہیں، جموں اور کشمیر کے لوگوں کو ان کا حق خود ارادیت دینے کے لیے رائے شماری کرانے کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرکے بھارت وادی کے آبادیاتی ڈھانچے کو بدل رہا ہے، پاکستان اور برطانیہ میں تعلیم اور کاروبار کے شعبوں میں بہترین تعلقات ہیں، مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔
وفد نے ہندوستانی گجرات اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی حالت زار پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
صدر مملکت نے کشمیر کاز کی حمایت پر برطانیہ میں کشمیری باشندوں اور برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان کی حمایت کو بھی سراہا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔



















