وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر نے کہا ہے کہ ہر صورت سندھ کے مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر کا محکمہ محنت،سندھ روینیو بورڈ، محکمہ خزانہ اور ورکر ویلفئر بورڈ کا مشترکہ اجلاس ہوا۔
اجلاس میں کہا گیا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر سندھ روینیو بورڈ نے ورکرز ویلفیئر فنڈ کے 6.3 ارب روپے وصول کئے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 6.3 ارب روپے عدالتی مقدمات کے باعث صنعتی ادارے ادا نہیں کررہے تھے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے آگاہی دی کہ ایف بی آر نے سندھ میں قائم صنعتی اداروں سے ورکرز ویلفیئر فنڈ کی مد میں 22 ارب کی وصولی کی ہے، او جی ڈی سی ایل نے 2 ارب روپے ایف بی آر کو سندھ میں کام کرنے کی مد میں دئے ہیں۔
ایس آر بی نے وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کو کافی خطوط لکھے لیکن وہ 22 ارب روپے سندھ کو ادا نہیں کررہے۔
جسٹس (ر) مقبول باقر نے ایف بی آر سے 22 ارب روپے کی وصولی کیلئے وزیراعظم کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر نے کہا کہ یہ سندھ کے مزدوروں کا پیسہ ہے، ہم ہر صورت سندھ کے مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کریں گے، ایف بی آر سے 22 ارب روپے وصول کرکے مزدوروں کی فلاح و بہبود پر خرچ کریں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ناردرن بائی پاس پر مزدوروں کی رہائشی کالونی کے فلیٹس کی بحالی اور انکی مزدروں کو الاٹمنٹ کا کام 15 روز میں مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔



















