سابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مستونگ اور ہنگو میں دہشتگردی کی شدید مذمت کی ہے۔
تفصلات کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری نے مستونگ اور ہنگو میں دہشتگردی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی میں ملوث تمام کرداروں قانون کی گرفت میں لایا جائے اور عبرت کا نشان بنا جائے ۔
آصف علی زرداری نے مستونگ اور ہنگو میں بم دھماکوں میں شہید ہونے والوں کے ورثا سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا جبکہ بم دھماکوں میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی ہے۔
دوسری جانب چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مستونگ اور ہنگو میں دہشتگردوں کے ہاتھوں معصوم انسانوں کی شہادتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہو دہشتگردی میں ملوث مجرموں کو سخت سزائیں دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ اور پاکستان پیپلزپارٹی مستونگ اور ہنگو میں شہید ہونے والوں کے خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی ہے۔
مستونگ: عید میلاد النبیﷺ کے جلوس میں خودکش دھماکا
یاد رہے کہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں عید میلاد النبی ﷺ کے جلوس میں ہونے والے خود کش دھماکے میں ڈی ایس پی مستونگ سمیت 47 افراد جاں بحق اور 60 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔
ایس ایچ او مستونگ سٹی جاوید لہڑی کے مطابق دھماکا الفلاح روڈ پر ہوا، زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کا بتانا ہے کہ مستونگ دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 47 ہو گئی ہے جبکہ 60 سے زائد افراد زخمی ہیں، جاں بحق افراد میں ڈی ایس پی نواز گشگوری بھی شامل ہیں جبکہ دھماکے کے زخمیوں میں سے بیشتر کی حالت تشویشناک ہے۔
ہنگو: نمازِ جمعہ میں خودکش دھماکا، 4 افراد جاں بحق
علاوہ ازیں خیبر پختونخوا کے کوہاٹ ڈویژن کے ضلع ہنگو کی مسجد میں نمازِ جمعہ کے خطبے کے دوران دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق اور 12 زخمی ہو گئے۔
ڈی پی او ہنگو نثار احمد کے مطابق تھانہ دوآبہ کی حدود میں مسجد کے اندر دھماکا ہوا، جاں بحق افراد میں 3 شہری اور 1 پولیس اہلکار شامل ہیں۔
ڈی پی او کا کہنا ہے کہ دوآبہ تھانے پر 2 خودکش حملے ہوئے، ایک خودکش دھماکا تھانے کے گیٹ پر جبکہ دوسرا خودکش دھماکا تھانے کے اندر مسجد میں ہوا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔



















