سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ریاست مدینہ کا مطلب قانون سب کیلئے برابر ہونا چاہئے۔
تفصیلات کے مطابق سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمن نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرے اعزاز کی بات ہے کہ طویل عرصے بعد فیصل آباد میں ناموس رسالت کانفرنس میں شریک ہوں، ایک اچھے و مقدس عنوان کے ساتھ یہ اجتماع منعقد ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ رسول ص کی رحمت کو دنیا میں فروغ دینے کیلئے اسکام کا آغاز کیا گیا ہے، دعا ہے اللہ تعالی دین اسلام اور رسول ص کی زندگی کو ایک ایک شخص تک پہنچائے۔
مولانا فضل الرحمن نے یہ بھی کہا کہ رسول ص سیرت کے اعتبار سے بھی اتنے عظیم تھے کہ پوری کائنات میں آپ جیسا کوئی دوسرا پیدا نہیں ہوا، صورت کے اعتبار سے بھی آپ ص جیسا حسین پوری کائنات میں پیدا نہیں ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ جہاں کہیں آپ نے کسی کو نمائندہ مقرر کیا تو اسے نصیحت کی ایک دوسرے سے اچھی باتیں کیا کریں، لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کرو۔
مولانا فضل الرحمن کا یہ بھی کہنا تھا کہ آپ ص سے مشرکین کیلئے بد دعا کا کہا گیا تو آپ ص نے فرمایا میں تو رحمت کیلئے بھیجا گیا ہوں، آپ ص کی حیات طیبہ کا یہ پہلو ہمارے معاشرے سے کہاں چلا گیا؟
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ 2017 والی ترقی کا سلسلہ چلتا رہتا تو آج ہم بھی جی 20 میں ہوتے لیکن ہمارا ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا جنہوں نے ملک میں سیاسی عدم استحکام سے دوچار کیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپنے ٹائیگرز سے ریاستی اداروں پر حملہ کروایا، ریاست مدینہ کا مطلب قانون سب کیلئے برابر ہونا چاہئے، سعودیہ نے پہلی مرتبہ فلسطین میں سفیر بھیجا ہے، میں سعودی قیادت کے بیان کا خیر مقدم کرتا ہوں کہ فلسطین اور کشمیر ایک جیسے مسئلے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ مدارس کا مسئلہ تو پورے برصغیر کا ہے، دلدل سے آپ نکلنے کی کوشش کرتے ہیں مگر آپ دھنستے چلے جاتے ہیں، میں کہتا رہا کہ سڑکوں پر آ کر تحریک کو تقویت ملنی چاہئے، تحریک عدم استحکام سے ہمارے ہاتھ کچھ نہیں رہنا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فتنہ فتنہ ہے، ایک آنے کی سرمایہ کاری نہیں ہوئی، قیمتیں بڑھنا سب آئی ایم ایف کے ہاتھ میں ہے۔معیشت، آئی ایم ایف اور آئین میں تبدیلی کا دباؤ ہمارے اوپر ہی کیوں؟
سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمن کا مزید کہنا تھا کہ محترم و مقدس ریاست اور پاکستان کی ترقی کیلئے رسول اللہ ص کے شریعت و سیرت پر عمل کرنا ہوگا، جب تک رسول ص کے نظام کو پاکستان کا نظام نہیں بنائیں گے ترقی نہیں ہوگی۔



















