فاطمہ جناح اسپتال کوئٹہ میں زیر علاج کانگو وائرس کا ایک اور مریض انتقال کرگیا۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق فاطمہ جناح اسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں زیر علاج کانگو وائرس کے انتقال کرنے والے مریض کا تعلق افغانستان سے تھا تاہم وہ عارضی طور پر سیٹلائٹ ٹاون کوئٹہ میں مقیم تھا۔
اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مریض کو 23 ستمبرکو اسپتال لایا گیا تھا جہاں کانگو وائرس کی تشخیص ہوئی تھی اور اس کاعلاج جاری تھا۔
یاد رہے کہ بلوچستان میں اس سال کانگو وائرس سےاموات کی تعداد 12ہوگئی ہے، فاطمہ جناح اسپتال میں کانگو وائرس کے چار مزید مریض زیر علاج ہیں۔
کانگو وائرس کیا ہے؟
یہ وائرس مویشی گائے، بیل، بکری، بکرا، بھینس اور اونٹ، دنبوں اور بھیڑ کی کھال سے چپکی چیچڑوں میں پایا جاتا ہے، چیچڑی کے کاٹنے سے وائرس انسان میں منتقل ہو جاتا ہے۔
قومی ادارۂ صحت کے مطابق نیرو نامی وائرس انسانی خون اور تھوک میں پایا جاتا ہے جو انسانوں میں گانگو بخار پھیلاتا ہے، متاثرہ شخص ایک ہفتے کے اندر زندگی کی بازی ہار سکتا ہے۔
کانگو کی علامات
متاثرہ شخص کو تیز بخار، کمر، پٹھوں، گردن میں درد، قے، متلی، گلے کی سوزش اور جسم پر سرخ دھبے کانگو کی علامات ہیں۔
واضح رہے کہ کانگو وائرس گزشتہ بیس سالوں سے پاکستان میں موجود ہے، یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ کانگو وائرس کے خاتمے کے لیے تا حال کوئی ویکسین ایجاد نہیں ہوئی ہے لہٰذا قبل از وقت احتیاط اور مرض ظاہر ہو جانے کی صورت میں فوری اور بر وقت علاج ضروری ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔



















