Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

الیکشن کمیشن کا فافن کی حلقہ بندیوں سے متعلق رپورٹ پر رد عمل

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے فافن کی حلقہ بندیوں سے متعلق رپورٹ پر رد عمل دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق ترجمان الیکشن کمیشن نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل 51 کے تحت قومی اسمبلی کی 266 نشستیں صوبوں کے درمیان آبادی کی بنیاد پر تقسیم کی گئی ہیں، صوبے کی مختص شدہ نشستوں اور آبادی کو مدِنظر رکھتے ہوئے صوبے کا کوٹہ نکالا گیا، کوٹہ کی بنیاد پر الیکشن رولز 2017 کے رول 8 (2) کے تحت ہر ضلع کو سیٹیں مختص کی گئیں، بعد ازاں ہر ضلع کی آبادی کی بنیاد پر اور اُس ضلع کی سیٹوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حلقہ بندی کی  گئی۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ فافن نے آبادی میں فرق کا تجزیہ کرتے وقت ضلعی یونٹ کو سیٹوں کے تعین کے لیے نہیں لیا، انتخابی حلقوں میں 10 فیصد آبادی میں کمی و بیشی کی صورت میں وجوہات درج کی جانی ضروری ہیں، آبادی کے اعداد و شمار میں فرق کے حوالے سے جن اعداد و شمار کا ذکر کیا گیا ہے وہ درست نہیں، ابتدائی حلقہ بندی کے دوران 64 حلقہ جات ایسے ہیں جس میں 10 فیصد سے زیادہ آبادی کی کمی و بیشی ہے، اس کی رپورٹ میں مناسب وجوہات دی گئی ہیں جس کی دفعہ 20(4) الیکشنز ایکٹ 2017 اجازت دیتا ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ ابتدائی حلقہ بندی میں اگر ایسی غلطی پائی گئی جس کی قانون اجازت نہیں دیتا تو اعتراضات کی سماعت کے دوران اُسے درست کیا جائے گا۔

 

 

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں