نگران حکومت نے غیر قانونی مقیم لوگوں کو پاکستان چھوڑنے کی ڈیڈ لائن دیدی ہے۔
تفصیلات کے مطابق نگراں وزیرداخلہ سرفرازاحمد بگٹی نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں سیکیورٹی کی صورتحال سے متعلق جائزہ لیا گیا، پاکستان میں غیرمقامی طورپرمقیم غیرملکیوں کو یکم نومبرتک کی ڈیڈ لائن دی ہے، یکم نومبرکے بعد غیرقانونی طورپرمقیم غیرملکیوں کو ڈی پورٹ کریں گے۔ چودہ جوائنٹ چیک پوسٹیں بلوچستان، 10 پنجاب اورپانچ کے پی میں ہیں۔
سرفرازاحمد بگٹی نے کہا کہ ہرپاکستان کی سیکیورٹی ہمارے لیے سب سے مقدم ہے، کوئی شخص پاسپورٹ اورویزا کے بغیرپاکستان میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ غیرقانونی طورپرمقیم غیرملکیوں کی پراپرٹیز اور کاروبار کو بحق سرکارضبط کیا جائے گا۔ کئی لوگوں نے جعلی شناختی کارڈ بنوا رکھے ہیں۔ وزارت داخلہ میں اس سلسلے میں ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لایاگیا ہے۔ جعلی شناختی کارڈ کے حامل افراد کا ڈی این اے ٹیسٹ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ جھتے بنا کراقلیتوں کونشانہ بنانے والوں کو پرموٹ نہیں ہونے دینگے، بندوق کے زور پر کسی کو اپنا ایجنڈا مسلط نہیں کرنے دیں گے، افغانستان سے ہم پرحملے ہوتے ہیں، ہمارے پاس شواہد ہیں جس طرح ہم پر حملے ہوتے ہیں، وزارت داخلہ اس معاملے پراپنا کام کررہی ہے۔
وزیرداخلہ نے کہا کہ یونیز کی آڑ میں قانون ہاتھ میں لینےوالوں کےخلاف کارروائی ہوگی، ریاست پر حملہ آور ہونے والوں کو کچلا جائےگا، بندوق کے زورپرکسی کو ایجنڈامسلط نہیں کرنے دیں گے، کوئی دو رائے نہیں کہ افغانستان سے ہم پرحملے ہوتے ہیں۔ افغان شہری حملوں میں ملوث ہوتے ہیں تمام شواہد ہیں، جنوری سے اب تک 24خودکش حملےہوئے،14واقعات میں افغان شہری ملوث تھے۔ ہنگو دھماکے میں بھی افغان شہری کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ نادرا کا فیملی ٹری خراب کرنے والوں کےخلاف کارروائی ہوگی۔
سرفرازبگٹی نے کہا کہ کسی کو اقلیتوں پر حملہ آور نہیں ہونے دیں گے، شناختی کارڈ کے اجرا میں بےضابطگیاں تھیں، پاکستان آئین اورقانون کے مطابق چلےگا، بندوق کے زورپرمسلط ایجنڈے کے مطابق زندگی نہیں گزاریں گے، منشیات کی لعنت کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی، اسگلنگ اورغیرقانونی سرگرمیوں کی اطلاع دینےوالےکانام رازمیں رکھاجائےگا، اسمگلنگ اورذخیرہ اندوزی کی روک تھام کیلئےچیک پوسٹیں بنادی ہیں۔ اسمگلنگ، ہنڈی حوالہ اور بجلی چوری کے خلاف کارروائی مزید سخت کی جائے گی۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















