مدد علی سندھی نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس تعلیم کے بغیر ترقی کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
تفصیلات کے مطابق نگران وفاقی وزیر تعلیم مدد علی سندھی نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ1980 میں صحافت کا عرصہ مشکل میں گزرا لیکن اب صحافت آسان ہے، صحافیوں کے دن نہیں بدلے اب صحافیوں کو محنت کا پورا معاوضہ ملنا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے جن سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کی وہ عدم توجہ کی نظر ہوگئے ، نگران حکومت میں کچھ نہ کرسکے تو کم از کم اچھی بنیاد رکھ کر جائیں گے۔
نگران وفاقی وزیر تعلیم نے یہ بھی کہا کہ جسے بولو کہتے ہیں ہمارے پاس فنڈرز نہیں مگر نئے ملازم بھرتی ہورہے ہیں ، تعلیم حال بہتر کرنے کی ضرورت ہے مزید بھرتیوں کی فل حال ضرورت نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے ایک سرکاری اسکول جانا ہوا تو بیت الخلا میں پانی نہیں تھا ، بچوں کو اسکالر شپ دینے والے ادارے میں سندھ کی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔
مدد علی سندھی کا یہ بھی کہنا تھا کہ جامعہ سندھ کو 15 ملین دے چکے ہیں مزید تین ہاسٹلز بن رہے ہیں ، فیڈرل فنڈز 129 ملین ہم دے چکے ہیں اور 15 ملین فنڈز ابھی رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس تعلیم کے بغیر ترقی کا کوئی راستہ نہیں ہے ، 16 اکتوبر کو تمام صوبائی وزراء کو تعلیم کانفرنس میں مدعو کیا گیا ہے۔
نگران وفاقی وزیر تعلیم مدد علی سندھی نے مزید کہا کہ تعلیم کے مسائل پرانے ہیں اساتذہ نشاندہی کرتے رہے ہیں اور کررہے ہیں ، انتخابات ضرور ہونگے معیشت کے لئے لمبا کام کرنا پڑے گا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















