امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس کو خوش آئند قرار دیتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق حافظ نعیم الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کل ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا ہے، 8 اکتوبر کو گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا دیں گے جس کی قیادت امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کریں گے۔
نعیم الرحمان نے کہا کہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس کو خوش آئند قرار دیتے ہیں، اس دوران سندھ میں امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، کچے کے علاقے میں آپریشن کی بات کی گئی، ہر اجلاس کے بعد یہی بات ہوتی ہے کہ اسٹریٹ کرمنل کے خلاف کارروائی ہو گی، نیشنل ایکشن پلان جو بنا تھا 7 سے 8 سال پہلے، ایکشن پلان میں فوری طور پر دہشتگردوں اور اسٹریٹ کرمنل کو پکڑنا تھا، کراچی میں اس سے قبل قبضہ مافیا سے اراضی واگزار کرائی گئی، جماعت اسلامی نے اپنا تعاون بھی کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں ترقی کا پہیہ رکا ہوا ہے، گزشتہ ایک دہائی سے کے فور منصوبے سمیت دیگر منصوبے رکے ہوئے ہیں، جامعات کو سندھ حکومت گرانٹ نہیں دے رہی، سارا مالی بوجھ طلباء پر ڈالا جاتا ہے، مافیاز کو خام مال وہاں ملتا ہے جہاں تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولت نہیں ہوتی، اسلحہ کرائے پر مل جاتا ہے لیکن بنیادی سہولت نہیں ملتی، پولیس ریفارم بھی نیشنل ایکشن پلان کا حصہ تھا، سندھ کا 98 فیصد ریونیو کراچی جنریٹ کرتا ہے لیکن کراچی پر لگتا کتنا فیصد ہے؟
انہوں نے کہا کہ جو شہر 98 فیصد ریونیو جنریٹ کرتا ہے وہاں کے مقامی افراد کو روزگار نہیں دیتے، کراچی کے نوجوانوں پر تعلیم کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں، سرکاری جامعات میں آئی ٹی شعبے میں بیچلرز ڈگری پروگرام کی کم سے کم فیس 10 لاکھ سمیسٹر ہے۔
نعیم الرحمان نے کہا کہ بجلی کا اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بم شہریوں پر مارا گیا، ہر سال 3 لاکھ سے زائد بچے میٹرک کے بعد سے پونے دو لاکھ بچے انٹر اور 45 ہزار بچے ڈگری پروگرام میں جاتے ہیں، باقی ڈراپ آؤٹ کہاں ہو رہا ہے یہ دیکھا جائے، ہر انڈسٹری میں رشوت دینی پڑتی ہے، ون ونڈو آپریشن ہو تاکہ انڈسٹری چل سکے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں، بڑے پیمانے پر جب منشیات کا دھندا چل رہا ہو تو مسائل ختم نہیں ہو سکتے، اسٹریٹ کرمنل بے خوف قتل اس لیے کرتے ہیں کہ وہ بار بار جیلوں سے چھوٹ جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس انویسٹیگیشن اور عدالت کا فرسودہ نظام ہے، نیشنل ایکشن پلان جو متفقہ طور پر بنایا گیا تھا اس پر فوری عملدرآمد کیا جائے، جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جو بجلی کے نرخوں پر نیپرا میں لڑتی ہے، مہنگائی کے خلاف عوامی جذبات کو جماعت اسلامی نے پرامن مزاحمت میں تبدیل کیا، لوگوں کو اپنے حق کے لیے نکلنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی 8 اکتوبر کو مہنگائی کے خلاف دھرنا دے گی، پاکستان کا تقابل پاکستان کے ساتھ ہو گا، دوسرے ملکوں کے ساتھ تقابل نہ کریں، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ تمام خرد و نوش اشیاء کی قیمتیں کم ہونی چاہیے، اسمگلنگ بند کر دی اب بھی چینی کیوں مہنگی مل رہی ہے؟
دوسری جانب امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ طویل عرصہ مسلط رہنے والے دو خاندان اب پھر حکمرانی کا خواب دیکھ رہے ہیں، خاندانی بادشاہتوں نے جمہوریت اور معیشت کو شدید نقصان پہنچایا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















