فلسطین و اسرائیل کشیدگی پر ترجمان دفتر خارجہ کا مؤقف سامنے آگیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ نے فلسطین و اسرائیل کشیدگی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی ابھرتی ہوئی صوتحال پر پاکستان کو تشویش ہے، فلسطین اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی پر گہری نظر ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کو قیمتی جانوں کے ضیاع پر تشویش ہے، پاکستان بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ اور او آئی سی کے مطابق مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کا خواہ ہے، مسئلہ فلسطین کے حل کے ساتھ ہی مشرق وسطیٰ کا امن جڑا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک خود مختار اور آزاد ریاست قائم کی جائے جس کا درالحکومت القدس شریف ہو، شہریوں کے تحفظ اور مشرقی وسطیٰ میں دیرپا امن کے لئے عالمی برداری اپنا کردار ادا کرے۔
حماس کے اسرائیل پر راکٹ حملوں پر نگران وزیراعظم کا ردعمل
نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے حماس کے اسرائیل پر راکٹ حملوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فلسطین کے مسئلہ کو فوری حل کرنے کی ضرورت ہے، مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تشدد سے دل افسردہ ہے، ہم شہریوں کے تحفظ پر زور دیتے ہیں،مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن دو ریاستوں کے حل میں مضمر ہے، جس میں ایک خود مختار ریاست فلسطین ہے جس کے دل میں القدس شریف ہے۔
حماس کے اسرائیل پر راکٹ حملوں کے بعد سعودی عرب کا موقف سامنے آگیا
حماس کے اسرائیل پر راکٹ حملوں کے بعد سعودی وزارت خارجہ کا بیان سامنے آگیا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا باغور جائزہ لے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب دونوں فریقن کے درمیان کشیدگی کو روکنے کا خواہ ہے، شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے جب کہ فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق اور مقدس مقامات کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے۔
سعودی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ عالمی برادری اس میں اپنا کردار ادا کرے اور دونوں ریاستوں کو کسی حل کی طرف لے جائے، امن و سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے۔
خیال رہے کہ حماس کی جانب سے اسرائیل پر 5 ہزار سے زائد راکٹ فائر کیے گئے ہیں جن میں متعدد اسرائیلی ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے ہیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















