نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ پاکستان مظلوم فلسطینیوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
تفصیلات کے مطابق نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ سے کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز کے وفد کی صدر ارشاد عارف کی قیادت میں ملاقات ہوئی جس میں وفد نے نگران وزیر اعظم کو پاکستانی اخبارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔
ملاقات میں نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے وزارت اطلاعات و نشریات اور وزارت خزانہ کو ہدایت کی کہ اخبارات کو درپیش تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔
انوار الحق نے کہا کہ ریاست کے خلاف منفی پراپیگینڈے کی منظم مہم چلائی جاتی ہے، معاشرے میں مثبت بحث و مباحثے اور تنوع و اختلافِ رائے پر مبنی گفتگو سننے کے ماحول کو فروغ دینا ہوگا جس میں اخبارات کا کلیدی کردار ہے۔
نگران وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ میرے امریکہ دورے کے بارے میں جھوٹی خبروں اور بے جا تنقید کی ایک منظم مہم چلائی گئی، امریکہ میں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے پاکستان کے کیس کو مؤثر انداز میں پیش کیا، اللہ رب العزت نے موقع دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے ثقافتی پہلو کو قرآن کا حوالہ دے کر دنیا کے سامنے پیش کروں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایم ڈی عالمی مالیاتی ادارے نے اسمگلنگ اور ڈالر کی غیر قانونی خرید و فروخت کو روکنے کے حکومتی اقدامات کو سراہا، قلیل مدت میں اسمگلنگ اور ڈالر پر سٹے بازی کو روکنے کیلئے سخت اقدامات کئے، روپے کی ڈالر کے مقابلے میں بڑھتی ہوئی قدر اس مہم کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
انوار الحق کاکڑ کا یہ بھی کہنا تھا کہ پیٹرلیم مصنوعات کی اسمگلنگ سے ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچتا رہا، بجلی چوری کو روکنے کیلئے ملک بھر میں اقدامات کئے جار ہے ہیں، آئندہ دورہ چین میں پاک چین اسٹریٹجک تعلقات، دوطرفہ تجارت، سی پیک اور سیاحت کے فروغ پر بات ہوگی۔.
نگران وزیر اعظم نے کہا کہ خسارے کا شکار سرکاری اداروں (SOEs) کی نجکاری کا عمل تیز اور شفاف بنا رہے ہیں جس سے ملکی خزانے کو ہونے والا نقصان کم ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغانی ہمارے بھائی ہیں، قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں کو کوئی واپس نہیں بھیج رہا، صرف غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو ملک بدر کیا جا رہا ہے، 31 اکتوبر کے بعد انکے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے مزید کہا کہ فلسطین میں اسرائیل کی حالیہ جارحیت، ظالم اسرائیل اور مظلوم فلسطینیوں کی جنگ ہے، پاکستان مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ انکے حق خود ارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کے حصول تک شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
ملاقات میں ملک بھر سے قومی و علاقائی اخباروں کے ایڈیٹرز نے شرکت کی جبکہ ملاقات میں سیکریٹری اطلاعات، پرنسپل انفارمیشن آفیسر اور متعلقہ اعلی حکام نے بھی شرکت کی۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















