Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ہم ملک پر جان نچھاور کرنے والوں کا قرض نہیں اتار سکتے، نگران وزیراعظم

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ ہم ملک و قوم پر جان نچھاور کرنے والوں کا قرض نہیں اتار سکتے۔

تفصیلات کے مطابق گورنر ہاؤس میں نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی زبان کوئی بھی ہو وہ میٹھی ہے، دیگر زبانوں کی طرح پشتو سے بھی دلی لگاؤ ہے، میں پشتو میں بات کرونگا جبکہ میری خواہش رہی کے پشاور میں رہائش اختیار کروں۔

انہوں نے کہا کہ میں آج جو کچھ ہوں اس خیبرپختونخوا خطے کی وجہ سے ہوں، جب یہاں آیا تھا تو لڑکپن تھا، گلی گلی محلے محلے سے لگاؤ ہے اور ہر گاوں میں میرے دوست ہیں، اگر ترک وطن کروں تو میں نے پشاور میں بسنا ہے اور کہیں نہیں جانا کیونکہ اس خطے کے لوگوں میں محنت، صداقت ، ہمت دیکھی ہے۔

انوار الحق نےیہ بھی کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جس طرح اس صوبے نے مقابلہ کیا وہ شاید کوئی نہ کر سکتا، ایسے بہادر جوانوں جو ملک و قوم پر قربان ہوئے ان کو ہم کیا تنخوا دیتے تھے یا دینگے، انہیں اللہ کے ہاں اعلیٰ مقام ہے، شہید کو اللہ رزق دیتا ہے، ہم ملک و قوم پر جان نچھاور کرنے والوں کا قرض نہیں اتار سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے 90 ہزار لوگوں نے قربانیاں دیں جان کی، صفوت غیور جیسے بہادروں نے اس وطن کی حفاظت کی، صفوت شہید نے پشاور کا بیٹا بن کے دکھایا، انہوں نے خون دے کر تکمیل پاکستان میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔

انوار الحق کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کا خواب ایک بہت بڑا خواب تھا، اسکے لیے قربانیاں بھی بڑی دی جاتی رہیں، یہ فیصلہ ہم نے کرنا ہے کے ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کو محفوظ بھی کرنا ہے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ نگران سیٹ اپ میں مخلص لوگ ہیں اور اسی عوام میں سے ہیں، نگران سیٹ اپ میں جو کوئی فرض سے کمزور نظر آئے آپ ہمیں بتائیں۔

 نگران وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ میں نے چیف سیکرٹری ، سیکرٹری فنانس کو ہدایات دی ہیں، صوبے کے مالی بحران کے حوالے سے ہر ممکن تعاون کیا جائیگا جبکہ ہم کسی بھی کالعدم تنظیم سے بات نہیں کرنا چاہتے نا کرینگے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کو کون نکال رہا ہے، ہم تو غیر قانونی دراندازوں اور مقیم کو نکال رہے ہیں،17 لاکھ مہاجر یہاں قانونی مقیم ہیں، ہم افغانستان کے ساتھ ترک تعلق نہیں کرنا چاہتے، ہم قانون کا فالو کرنا اور کروانا چاہتے ہیں۔

انوار الحق کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم امید رکھتے ہیں کے ہمسائیہ ملک افغانستان تعاون کریگا ہمارے موقف پر  اور دہشتگردوں کی پناہ گاہیں وہ اپنے ملک سے ختم کریں، ہم دشمنی ، ضد، اناپرستی پر غیر قانونی مقیم افغانیوں کو نہیں نکال رہے، جو غیر قانونی ہے وہ قانونی کیسے ہو سکتا ہے؟ غیر قانونی مقیم مہاجروں میں بڑی تعداد مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا مزید کہنا تھا کہ فلسطین کے معاملے پر جو ہمیں کرنا چاہیے ہم وہ کررہے ہیں جبکہ 4 ہزار ارب روپے جو قرضہ تھا وہ ڈالر کی قدر کم ہونے سے کم ہوگیا ، پٹرول کی قیمت میں کمی آئیگی جبکہ اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں کمی آتی جارہی ہے۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں