نگران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ سی پیک نے ہمارے عوام کیلئے ترقی کی نئی راہیں کھولیں۔
تفصیلات کے مطابق نگران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی نے ”سی پیک اینڈ مائی لائف“ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ بیلٹ اینڈ روڈ فورم میں شرکت کے لئے چین کے دورہ پر روانہ ہو رہے ہیں، پاکستان اور چین کی اعلیٰ قیادت کے درمیان چین میں ہونے والے روابط سے دوطرفہ تعلقات کو مزید نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔
مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ سی پیک نے لوگوں کی زندگیوں پر انمٹ مثبت اثرات مرتب کئے ہیں۔لاہور میں اورنج ٹرین، سندھ میں تھر کول اور بلوچستان میں گوادر جیسے سی پیک منصوبوں سے عوام کو بے پناہ فائدہ ہوا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے سرمایہ کاروں کو ون ونڈو سہولیات فراہم کرنے کیلئے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل قائم کی ہے۔
نگران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا کہنا تھا کہ سی پیک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جبکہ پاکستان کان کنی، زراعت، آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید بڑھانے کا خواہاں ہے۔
مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ روڈ، ریل اور فضائی ٹرانسپورٹیشن کے بہتر نظام کے ذریعے جغرافیائی روابط بڑھنے سے لوگوں سے لوگوں تک روابط اور ثقافتی تعلقات کو فروغ ملے گا جبکہ کاروبار کے زیادہ حجم کے نتیجے میں ہم آہنگی اور پائیدار ترقی ممکن ہوسکے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) گلوبلائزڈ دنیا میں اقتصادی ترقی کی جانب سفر ہے، یہ ”آئیڈیل امن اور ترقی سب کے لئے“ کے ماڈل پر مبنی ہے۔
مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ سی پیک نے لاکھوں پاکستانیوں کی زندگیوں پر انمٹ مثبت اثرات مرتب کئے ہیں، سی پیک نے ہمارے عوام کیلئے ترقی کی نئی راہیں کھولیں، پاکستان اور چین اس تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لئے پرعزم ہیں۔
نگران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی کا مزید کہنا تھا کہ سی پیک کے نہ صرف چین اور پاکستان بلکہ ایران، افغانستان، وسطی ایشیاءسمیت پورے خطے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری خارجہ سائرس قاضی نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) صدر شی کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو (بی آر آئی) کے فلیگ شپ منصوبے کے طور پر پاکستان اور چین کے درمیان سٹریٹجک تعاون کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو ہمارے بہترین سیاسی تعلقات کے برابر لانے کیلئے دونوں ممالک کی مربوط کوششوں کا نتیجہ ہے۔
سائرس قاضی نے کہا کہ سی پیک نے علاقائی روابط میں نئی بنیاد ڈالی اور چین کے ساتھ ہمالیہ سے بلند دوستی کو مزید بلندیوں تک لے جانے کے ساتھ ساتھ پورے خطے کے لئے اقتصادی انضمام کے مواقع کو بڑھا رہا ہے۔
سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ سنکیانگ میں پاک چین سرحد سے لے کر کراچی اور گوادر کی گہرے سمندری بندرگاہوں تک گزشتہ دس سالوں میں پاکستان کا معاشی منظرنامہ تبدیل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کی بدولت ہمارا بنیادی ڈھانچہ اپ گریڈ ہوا۔سی پیک نے ہمارے معاشرے کے پسماندہ اور دور دراز طبقات کی تیز رفتار اقتصادی ترقی کو یقینی بنایا ہے۔
انہوں نے سیمینار کے شرکا کو بتایا کہ پاکستان اور چین نے سماجی و اقتصادی ترقی پر خصوصی مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کیا ہے جو روزگار پیدا کرنے، غربت کے خاتمے، دیہی اور پسماندہ علاقوں کی بحالی کیلئے بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے گا۔
سیکریٹری خارجہ سائرس قاضی نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین دونوں کا اہم ہدف گوادر کو تجارت اور روابط کے علاقائی مرکز کے طور پر ترقی دینا اور اسے وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی منڈیوں سے جوڑنا ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















