Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پاک چین دوستی آنے والے سالوں میں مزید بلندیوں کو حاصل کرے گی، نگران وزیراعظم

اسلام آباد: نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ  مجھے یقین ہے پاک چین دوستی مزید مضبوط اور آنے والے سالوں میں مزید بلندیوں کو حاصل کرے گی۔

دورہ چین سے قبل انوار الحق کاکڑ نے بین الاقوامی جریدے میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا کہ چین پاکستان تعلقات بھائی چارے، دوستی اور اعتماد پر قائم ہے، پاک چین تعلقات کی بنیاد 70 سال پہلے وژن اور ٹھوس بنیاد پر رکھی گئی تھی، چین پاکستان کا بہترین دوست ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسحور کن بات ہے کہ چین میں آئرن برادر کی اصطلاح صرف پاکستان کے لیے مخصوص ہے، یقیناً پاک چین تعلقات قدیم تہذیبی رشتوں کا تسلسل ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ میں عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے دورے پر جلد ہی بیجنگ کا سفر کروں گا، تیسری بیلٹ اینڈ روڈ فورم فار انٹرنیشنل کوآپریشن میں شرکت کروں گا، بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کی ایک دہائی مکمل ہوئی جو صدر شی جن پنگ کی بصیرت کا مظہر ہے، ہم صدر شی کے وژن اور مدبرانہ صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، انکی بصیرت کے تصور کا بنیادی حصہ سماجی و اقتصادی ترقی پر مبنی ہے۔

انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ ٹیانکسیا ڈیٹونگ کا تصور پائیدار امن اور ہم آہنگی پر زور دیتا ہے، بی آر آئی مشترکہ مستقبل کی عالمی برادری کا ایک اہم ستون ہے، گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو، گلوبل سیکیورٹی انیشیٹو، اور گلوبل سولائزیشن انیشیٹو مشترکہ مستقبل کے تصورات ہیں۔

نگران وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بی آر آئی میں شامل ہونے والے پہلے ممالک میں شامل تھا، چین پاکستان اقتصادی راہداری دو طرفہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک اقتصادی خوشحالی اور رابط بی آر آئی کے وعدے کی ایک روشن مثال ہے، سی پیک نے پاکستان کے سماجی و اقتصادی منظر نامے کو تبدیل کر دیا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ جدید انفرا اسٹرکچر کو اپ گریڈ کیا ہے، علاقائی رابطوں کو بڑھایا ہے، توانائی کی حفاظت کو یقینی بنایا ہے اور روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں۔

انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ رواں برس پاکستان نے سی پیک کے کامیاب پہلے عشرے کی تقریبات کی میزبانی کی، پاکستان سی پیک کی مشترکہ تعمیر کے لیے پرعزم ہے۔

نگران وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے گروپ آف فرینڈز کا بھی ایک اہم رکن ہے، پاکستان تعلیم، صحت، موسمیاتی تبدیلی اور غربت میں کمی کے شعبوں میں تعاون سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں بامعنی اقدامات لے رہا ہے، پاکستان عالمی سلامتی کے اقدام اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی حمایت کرتا ہے، پاکستان نے دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔

انکا کہنا تھا کہ ہم نے طویل تنازعات اور دہشت گردی کی وجہ سے نقصان اٹھایا ہے، ہم علاقائی امن کو یقینی بنانے کے لیے باہمی احترام، بات چیت اور تعمیری سوچ کی حمایت کرتے ہیں، پاکستان کی خارجہ پالیسی قائداعظم محمد علی جناح کے امن کے نظریہ پر محیط ہے۔

انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ صدر شی کی طرف سے پیش کیے گئے ان اہم اقدامات کی توثیق پاکستان کے لیے فطری ہے، ہمارا ماضی، حال اور مستقبل کا رشتہ ہے اور کوئی بھی چیز اس حقیقت کو بدل نہیں سکتی۔

نگران وزیراعظم نے مزید کہا کہ دیرینہ روایت کے مطابق ہم اپنے بنیادی مسائل پر ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں، مسئلہ کشمیر پر چین کی اصولی حمایت پر ہم چین کے شکر گزار ہیں، ہم ون چائنا کے اصول کے تحت چین کی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں، مجھے یقین ہے ہماری دوستی مزید مضبوط اور آنے والے سالوں میں مزید بلندیوں کو حاصل کرے گی۔

نگران وزیراعظم کا دورہ چین

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ آج 16 اکتوبر کو دورہ چین کے لیے روانہ ہوں گے اور 17، 18 اکتوبر کو بیجنگ میں مصروف دن گزاریں گے۔

دورہ چین کے دوران انوار الحق کاکڑ کی روس کے صدر ولادمیر پیوٹن سے ملاقات متوقع ہے جبکہ نگران وزیراعظم چین کے صدر شی جن پنگ اور چینی وزیراعظم سے بھی ملاقات کریں گے۔

ذرائع کے مطابق چینی صدر کی نگران وزیر اعظم کو دعوت کی وجہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹیو کی کامیابی میں پاکستان کی کلیدی اہمیت ہے۔

دوسری جانب نگران وفاقی وزیر تجارت اور صنعت ڈاکٹر گوہر اعجاز بھی چین کے دورے کے لیے روانہ ہوگئے ہیں، تاہم گوہر اعجاز چین کے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے تیسرے اجلاس میں شرکت کریں گے، جس میں حکومتوں کے سربراہ اور بین الاقوامی تنظیموں کے وفد بھی موجود ہونگے۔

وزارتِ تجارت کے مطابق نگران وفاقی وزیر تجارت اور صنعت ڈاکٹر گوہر اعجاز کے دورے کا مقصد تجارتی حجم اور کاروباری معاونت میں اضافہ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ وفاقی وزیر چین کے بڑے سرمایہ کاروں اور چینی ایگزم بینک کے صدر سے بھی ملاقات کریں گے۔

وزارتِ تجارت کے مطابق وفاقی وزیر تجارت و صنعت ڈاکٹر گوہر اعجاز کی کوفکو کے صدر کے ساتھ ملاقات بھی طے شدہ ہے

وزارتِ تجارت نے کہا تھا کہ چین کے دورے میں خوراک، زراعت، ٹیکسٹائل، کان کنی، الیکٹریک گاڑیوں کی پاکستانی برآمدات میں اضافے پر توجہ دی جائے گی اور شمسی پینل اور ای- کامرس میں پاکستان کی برآمدات کو بڑھانے پر بھی خصوصی توجہ ہوگی۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں