Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مسلم لیگ (ن) نے پارٹی ڈسپلن سخت کرنے کا فیصلہ کر لیا

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پارٹی ڈسپلن سخت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نواز شریف کی وطن واپسی سے قبل اہم رہنماؤں کو اصول وضع کر دیے گئے، مسلم لیگ (ن) کے بڑوں کی بیٹھک میں اہم فیصلہ ہو گیا۔

فیصلے کے مطابق تمام رہنماؤں کو پارٹی اجلاسوں میں ہر قسم کی تنقید اور اختلاف رائے کی مکمل آزادی ہو گی، پارٹی رہنما اجلاس کے اندر اُٹھائے گئے اختلافی نکات کو باہر کسی بھی پلیٹ فارم پر بیان نہیں کرینگے، الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا یا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پارٹی کی کسی بھی پالیسی پر تنقید ناقابل قبول تصور ہو گی، فیصلہ، فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے والے رہنماوں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

فیصلے کے مطابق خلاف ورزی کرنے والے پارٹی رہنما کو پہلے مرحلے میں شوکاز نوٹس دیا جائے گا، شوکاز نوٹس کا جواب موصول ہونے پر انکوائری کمیٹی بنا کر مزید کارروائی آگے بڑھائی جائے گی، پارٹی پالیسیوں پر کھلے عام تنقید کرنے والے رہنماوں کو انتخابات میں ٹکٹ دینے سے انکار بھی کیا جا سکتا ہے۔

پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے تمام پارٹی رہنماؤں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

نواز شریف کی وطن واپسی

پاکستان مسلم لیگ (ن) 21 اکتوبر کو نواز شریف کے استقبال کے لئے تیاریوں میں مصروف ہے اور اس حوالے سے نوازشریف نے مرکزی قیادت کو استقبال کے لئے کام سونپ دیا ہے اور کوشش ہورہی ہے کہ استقبالیہ جلسے میں زیادہ سے زیادہ لوگ پہنچيں۔

نواز شریف 21 اکتوبر کو لندن سے واپس پاکستان کے لئے روانہ ہوں گے۔ نوازشریف چارٹرڈ کے بجائے مسافر طیارے کے ذریعے پاکستان آئیں گے جس کے لئے انہوں نے ٹکٹ بھی بک کروا لی ہے۔

نواز شریف 21 اکتوبر کو لندن سے ابوظہبی انٹرنیشنل ایئر پورٹ لینڈ کریں گے اور اس ہی دن وہ ابو ظہبی سے لاہور کے لیے بھی روانہ ہوں گے۔

5 اکتوبر 2023 کو نواز شریف نے 21 اکتوبر کو وطن واپسی کے موقع پر شاندار استقبال کے حوالے سے اب تک کی تیاریوں کا جائزہ لیا اور لاہور سے ہی کم از کم پانچ لاکھ کارکنوں کو مینار پاکستان لانے کی ہدایت دی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے لاہور سے کم از کم پانچ لاکھ کارکنوں کو مینار پاکستان لانے کی ہدایت دی ہے اور حمزہ شہباز سمیت لاہور کے تمام ٹکٹ ہولڈرز کو روزانہ کی بنیاد پر حلقوں میں کارنرز میٹنگز اور ورکرز کنونشن کی ہدایت دی گئی۔

نواز شریف نے خدمت کو ووٹ دو کے بیانیے کو عملی شکل دینے کی بھی ہدایت کردی اور کہا کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے ہمیں بہت محنت کرنا پڑے گی۔

بعدازاں نواز شریف کی ایئرپورٹ سے مینار پاکستان جلسہ گاہ آمد کے لئے 2 پلان ترتیب دیے گئے ہیں، ایک پلان کو اے اور دوسرے کو پلان بی کا نام دیا گیا ہے، لاہور ایئرپورٹ پر مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما پارٹی قائد کا استقبال کریں گے جبکہ پلان اے کے مطابق مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو لاہور ایئر پورٹ سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے جلسہ گاہ لایا جائے گا۔

مینار پاکستان پر جلسے کے پنڈال میں 3 منزلہ اسٹیج تیار کیا جائے گا، پہلی منزل پر پارٹی قائد نواز شریف شہباز شریف اور مریم نواز سمیت پارٹی کے مرکزی عہدیداران کے لیے مختص ہو گی جبکہ دوسری منزل پارٹی کے سینئر رہنماؤں اور سابق وفاقی وزراء کے لئے مختص ہو گی جبکہ تیسری منزل پر پارٹی کے دیگر سینئر رہنماؤں کے بیٹھنے کے لئے انتظامات کیے جائیں گے۔

یاد رہے کہ اس وقت مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف دبئی میں موجود ہیں جبکہ دبئی سے چائنہ اور قطر جانے کا بھی امکان ہے۔

اس کے علاوہ نوازشریف 21 اکتوبر کو دبئی سے لاہور کے لئے روانہ ہوں گے جبکہ ان کی حفاظتی ضمانت کے لئے 19 اکتوبر کو لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کیے جانے کا امکان ہے۔

نوازشریف 21 اکتوبر شام 7 بجے لاہور پہنچیں گے، نوازشریف حفاظتی ضمانت ملنے پر لاہور ایئر پورٹ سے سیدھا مینار پاکستان پہنچیں گے اور ان کے استقبال کے لئے ملک بھر سے قافلے 4 بجے تک لاہور مینار پاکستان پہنچیں گے۔

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کو 21 اکتوبر کو مینار پاکستان میں جلسے کی اجازت مل گئی، ضلعی انتظامیہ لاہور نے مسلم لیگ (ن) کے مینار پاکستان پر جلسے کی مشروط اجازت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشروطہ سے دی۔

اس حوالے سے مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اقبال پارک کا جلسہ پچھلے تمام جلسوں کے ریکارڈ توڑ دے گا۔

متعلقہ خبریں