اسلام آباد: پاکستان نے اسرئیل کی جانب سے غزہ میں اسپتال کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کی جانب سے جاری بیان میں اسرائیل کی جانب سے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان غزہ میں الاہلی المدنی اسپتال پر اسرائیلی حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے، اسرائیلی حملے کے نتیجے میں سینکڑوں افراد کی اموات ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک اسپتال پر حملہ، جہاں شہری پناہ اور ہنگامی علاج کی تلاش میں تھے، غیر انسانی اور ناقابل دفاع ہے، شہری آبادی، سہولیات کو اندھا دھند نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی اور جنگی جرائم کا حصہ ہے۔
دفتر خارجہ کی ترجمان نے مزید کہا کہ ہم بین الاقوامی برادری سے غزہ پر اسرائیلی بمباری و محاصرے کو فوری بند کرانے کے لئے اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں، بین الاقوامی برادری سے جس استشنیٰ سے اسرائیلی حکام غزہ میں کارروائیاں کر رہے ہیں جس کو فی الفور روکنے کے لیے اقدامات کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے غزہ میں اسپتال پر بمباری کردی، جس کے نتیجے میں 500 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے، جن میں 70 فیصد بچے اور خواتین بھی شامل ہے، تاہم اسپتال میں بے گھر ہونے والے فلسطینوں نے پناہ لے رکھی تھی۔
غیر ملکی میڈیاکے مطابق اسرائیلی حملوں میں شہداء کی تعداد 3500 سے بڑھ گئی جبکہ 12500 زائد زخمی ہیں۔
اس حوالے سے ترک رکن پارلیمنٹ علی شاہین نے کہا تھا کہ یہ رات انسانی تاریخ کی سب سے تاریک اور بدترین رات ہے، اس رات انسانیت کی تمام حدیں پار کر دی گئی ہیں۔
دوسری جانب صدر یورپی کونسل چارلس مشل کا کہنا تھا کہ اسپتال پر حملہ، شہری انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
بعدازاں غزہ کے اسپتال میں بمباری کے خلاف مکتلف ممالک میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے، استنبول اور انقرہ میں مظاہرے کیے، اس موقع پر پولیس نے مرچوں کا اسپرے کرکے مظاہرین کو منتشر کردیا۔
اردن کے دارالحکومت عمان میں بھی احتجاج کیا گیا، مظاہرین نے اسرائیلی سفارت خانے کی طرف بڑھنے کی کوشش کی، تیونس میں بھی سیکڑوں افراد نے احتجاج کیا۔
مظاہرین نے فرانس اور امریکا کے سفیروں کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ کیا، جبکہ عراق کے دارالحکومت بغداد میں بھی اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















